Urdu book · علما اور دینی مدارس

شبلی اور علی گڑھ

Urdu book, p. 136

By Maulana Wahiduddin Khan

جس طرح شبلی نے علی گڑھ کو بہت کچھ دیا، اسی طرح خود شبلی کو بھی علی گڑھ سے بہت کچھ ملا۔ اور انصاف کا تقاضا ہے کہ اس کا اعتراف کیا جائے۔ مولاناشیبلی ایک خالصۃً قدیم طرز کے عالم تھے۔ چنانچہ تعلیم کے بعد ابتدائی زمانہ میں اس قسم کے مشاغل میں دل چسپی لینا شروع کیا جو اس زمانہ میں ان کے جیسے لوگوں کا عام مذاق تھا۔ مثلاً خاص طرح کی منطقی بحثیں اور مناظرہ وغیرہ۔ مولانا کی کتاب اسکات المعتدی اسی زمانہ کی یادگار ہے۔ معاشی مسائل بھی مختلف سمتوں میں کھینچتے رہے۔ کبھی وکالت کا امتحان دیا، کبھی ملازمت کی، کبھی نیل کی تجارت اور زمینداری کا کام دیکھا۔ (حیات شبلی، صفحہ 96) علی گڑھ سے تعلق نے ایک طرف مولانا کو موقع دیا کہ وہ معاش کے لیے سوچنا چھوڑ دیں۔ دوسری طرف یہاں کے ماحول نے انھیں وقت کی علمی ضرور یات کا احساس دلایا اور ان کی صلاحیتوں کو زیادہ بہتر کام کی طرف موڑ دیا۔ مولانا شبلی نے جس زمانہ میں علی گڑھ میں قدم رکھا، یہ وہ زمانہ تھا جب یورپ مسلمانوں کے اوپر سیاسی غلبہ حاصل کر چکا تھا۔ اس غلبہ کو مزید ذہنی تقویت پہنچانے کے لیے یورپ کے اہل قلم یہ طریقہ اختیار کیے ہوئے تھے کہ وہ مسلمانوں کی تاریخ اور ان کے علوم کو بگاڑ کر مسلمانوں کے سامنے پیش کریں۔ مسلمان اب تک اپنی تاریخ پر ناز کرتے چلے آ رہے تھے۔ اس کے جواب کے لیے مغربی مصنفین نے یہ کیا کہ اسلام، سلاطین اسلام اور علوم اسلامیہ کی طرح طرح کی برائیاں لکھ کر پھیلانا شروع کر دیں۔ تا کہ مسلمانوں کی نئی نسل خود اپنی قوم سے نفرت کرنے لگے اور ان کے قومی غرور کو ایسا صدمہ پہنچے کہ ان کے دماغی قوٰی ہمیشہ کے لیے مضمحل ہو جائیں۔ علی گڑھ کی فضا میں مولاناشیبلی کو وقت کے اس فتنہ کا احساس ہوا۔ چنانچہ انہوں نے اپنے مضامین اور کتابوں نیز گفتگوؤں اور تقریروں میں ایسی اعلیٰ علمی سطح پر اس کا رد پیش کیا کہ مستشرقین کا پھیلا یا ہوا کنفیوزن دور ہو گیا۔ ان کا یہ جذ بہ یہاں تک بڑھا کہ قدیم کتب اسلامیہ سے استفادہ کے لیے انہوں نے اسلامی ممالک کے سفر کیے تا کہ وہ کتابیں جو ابھی تک چھپ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page