شبلی اور علی گڑھ
Urdu book, p. 137
By Maulana Wahiduddin Khan
نہیں سکی تھیں۔ ان کے قلمی نسخوں کو دیکھ کر اپنی تصنیفات کے لیے مواد حاصل کریں ۔ حالانکہ یہ بھی زمانہ کی نیرنگی ہے کہ جن نادر کتابوں کی خاطر مولانا نے سفر کی محنت اٹھائی تھی وہ بعد کو نہیں کے زمانہ میں خود مخالفین کے ہاتھوں چھپ کر عام ہو گئیں ، اور اب ان کی پسندیدہ کتابوں میں سے شاید ہی کوئی کتاب ہو جو چھپ نہ چکی ہو ۔ مولاناشبلی نے جو تحریری کام کیا ہے ، اس کا مشترک موضوع غالباً ان لفظوں میں بیان کیا جاسکتا ہے — اسلامی تاریخ کی عظمت کو نمایاں کرنا ۔ اسلامی مسائل کو علمی سطح پر مدلل کرنا ، اسلام کی عظمت رفتہ کو یاد دلا کر مستقبل کا حوصلہ پیدا کرنا ۔ اور یہ وہی چیزیں ہیں جن کا احساس انہیں علی گڑھ کے ماحول میں ہوا۔ کیونکہ وہیں یہ صدائیں زیادہ گونج رہی تھیں ۔ علی گڑھ کے قیام سے شبلی کو دوسرا اہم فائدہ یہ ملا کہ انھیں جدید تعلیم کی اہمیت کا احساس ہوا۔ مولانا شبلی نے ایک تقریر میں اپنا یہ واقعہ بیان کیا۔ ” جب میں ترکی سے واپس آیا تو اتفاق سے گھر میں علالت تھی۔ ایک رات کو 12 بجے تار آیا۔ میں نے اس کو کھولا۔ دل میں دبہ سا پیدا ہوا کہ کیا واقعہ ہے۔ خدا جانے کیسا تار ہے۔ خیر میں دوڑا ہوا سرسید مرحوم کے نواسہ کے پاس گیا۔ انہوں نے پڑھ کر سنایا کہ یہ تار نواب علی حسن خاں صاحب نے بھوپال سے بھیجا ہے۔ وہ آپ کو ترکی سے بخیر یت واپس آنے پر مبارک باد دیتے ہیں۔ یہ حال ہم مولویوں کا ہے “۔ ( حیات شبلی ، صفحہ 135) علی گڑھ میں مولانا کو اندازہ ہوا کہ اسلام پر انگریزی زبان میں جو کتابیں آ رہی ہیں وہ نہایت غلط ہیں۔ اس سے انھیں خیال ہوا کہ علمائے دین کو انگریزی اور دوسری یورپین زبانیں جاننی چاہئیں ۔ تا کہ وہ مغربی زبانوں میں اسلام کا صحیح لٹریچر فراہم کر سکیں ۔ اس سلسلہ میں مولانا سید سلیمان ندوی نے ایک بار ان سے عرض کیا کہ عربی کے ہر طالب علم کے لیے آپ انگریزی پڑھنا کیوں ضروری قرار دیتے ہیں۔ مثلاً جو لوگ فقیہ بننا چاہتے ہیں ان کو انگریزی کیا کام دے گی ۔ فرمایا — ” عجیب بات کہتے ہو۔ اگر آج ہمارے فقہا انگریزی جانتے اور ہماری فقہ کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader