Urdu book · علما اور دینی مدارس

شبلی اور علی گڑھ

Urdu book, p. 138

By Maulana Wahiduddin Khan

انگریزی میں منتقل کر سکتے تو ہدایہ وغیرہ کے انگریزوں اور غیر مسلموں کے کیے ہوئے غلط غلط ترجمے آج عدالتوں میں سند نہ قرار پاتے۔“ (حیات شبلی، صفحہ 135) مولانا سید سلیمان ندوی کے الفاظ میں غالباً مولانا شبلی کو یہ احساس ہو گیا تھا کہ اگر وہ انگریزی جانتے ہوتے تو کیا کچھ اسلام کی خدمت کر سکتے تھے۔ اس لیے من نکردم شما حذر بکنید کے اصول پر وہ چاہتے تھے کہ اب علما ایسے ہوں جو دینی علم کے ساتھ وقت کی زبان بھی جانتے ہوں تا کہ وقت کے ذہنوں پر اسلام کا سکہ بٹھایا جا سکے۔ علی گڑھ میں عمومی طور پر مولانا شبلی کو جو کچھ حاصل کرنے کا موقع ملا۔ اس میں ایک چیز خصوصیت سے قابل ذکر ہے۔ یہ شبلی اور آرنلڈ کے تعلقات ہیں۔ پروفیسر آرنلڈ ایک نہایت لائق انگریز عالم تھے۔ دونوں کے علمی ذوق نے ایک دوسرے کو بے حد قریب کر دیا تھا۔ مولانا حبیب الرحمن خاں شیروانی لکھتے ہیں: ”بڑی خوش قسمتی علامہ شبلی کی یہ تھی کہ اس عہد میں پروفیسر آرنلڈ سا علم دوست استاد کالج میں تھا۔ یہ دونوں دلدادگان علم باہم ملے اور اس طرح ملے کہ جس طرح مختلف اللون نور کی شعاعیں باہم مل کر عالم کی روشنی کا باعث بنتی ہیں۔ پروفیسر آرنلڈ نے علامہ شبلی کو جدید اصول سے آگاہ کیا۔ یہ بتایا کہ جدید علمی مجلس کے کیا ساز و سامان ہیں۔ قدیم علوم پر کیا کیا اعتراض اور حملے ہیں۔ علامہ شبلی کی صداقت اور قوت دماغی یہ تھی کہ وہ جدید اصول کے طمطراق سے مرعوب نہیں ہوئے بلکہ ان پر اطمینان سے غور کیا۔ ... پروفیسر آرنلڈ نے عربی کا استفادہ علامہ شبلی سے کیا اور یہ دیکھا کہ پرانی زمینوں میں بھی جواہر آبدار موجود ہیں۔ اس واقفیت کا نتیجہ پروفیسر آرنلڈ کی بے نظیر تصنیف پر پنجنگ آف اسلام کی صورت میں عیاں ہوا۔ علامہ شبلی نے پروفیسر آرنلڈ سے کسی قدر فرینچ زبان سیکھی تھی۔ علامہ ممدوح کی زندگی کا یہ دور بہت کچھ سبق آموز اور ایک بڑے تعلیمی مسئلہ کا حل کرنے والا ہے۔“ (حیات شبلی، صفحہ 140)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page