شبلی اور علی گڑھ
Urdu book, p. 139
By Maulana Wahiduddin Khan
علی گڑھ کے تعلق سے جدید تعلیمی ضرورت کا احساس جس کی طرف مولانا نشر وانی نے اشارہ کیا ہے وہ اس وقت اور زیادہ پختہ ہو گیا جب مولانا شبلی اسلامی ممالک کے سفر سے واپس آئے۔ یہ سفر آپ نے علی گڑھ کے زمانہ ملازمت میں کیا تھا۔ اور راستہ میں پورٹ سعید تک آرنلڈ بھی مولانا کے ساتھ تھے۔ اب مولانا کو پختہ یقین ہو گیا کہ مسلمانوں کو دوبارہ اٹھانے کے لیے نئے نظام تعلیم کی شدید ضرورت ہے۔ یہاں ہم مولانا سید سلیمان ندوی کے الفاظ مستعار لیں گے: ”مولانا شبلی کے نزدیک مسلمانوں کی ترقی کے لیے سب سے بڑی چیز یہ تھی کہ مسلمانوں کی تعلیم کا ایسا نصاب ترتیب دیا جائے جس میں ایک طرف یورپ کے تمام جدید علوم و فنون کی تعلیم ہو اور دوسری طرف خالص اسلامی علوم کی۔ اور طریقہ تربیت اور درس گاہوں کا ماحول تمام تر مذہبی ہو۔ اگر ساری قوم کی تعلیم کا یہ بندوبست نہ ہو تو کم از کم عربی درس گاہوں میں ایسی اصلاح کی جائے کہ یونان کے بوسیدہ علوم کا سارا دفتر ہٹ کر اس کی جگہ نئے علوم کی تعلیم لے لے اور خالص مذہبی علوم اپنی جگہ پر رہیں اور نصاب میں متاخرین کے شروح و حواشی کے بدلے قدماء کی اصل کتا ہیں جوفن کی جان ہیں پڑھائی جائیں۔ درس گاہیں عالی شان ، کمرے صاف ستھرے اور تربیت ایسی ہو کہ طلبہ میں اولوالعزمی، حوصلہ مندی ، بلند نظری اور خود داری پیدا ہو۔ لیکن یہ چیز ان کو نہ قسطنطنیہ میں ملی ، نہ شام میں اور نہ مصر میں۔ سفر نامہ میں لکھتے ہیں — ” اس سفر میں جس چیز کا تصور میری تمام مسرتوں اور خوشیوں کو برباد کر دیتا تھا وہ اسی قدیم تعلیم کی ابتری تھی۔“ (سفر نامہ روم و مصر و شام) مولانا شبلی کے اس تجربہ اور مطالعہ نے انھیں ایک نئے تعلیمی تصور تک پہنچایا۔ یہ کہ ایسی درس گاہیں قائم کی جائیں جہاں جدید و قدیم دونوں کی تعلیم کا انتظام ہو۔ مولانا سید سلیمان ندوی آگے چل کر لکھتے ہیں: ”مولانا شبلی کا یہی احساس تھا جو ندوۃ العلماء کے قیام کے بعد دار العلوم ندوۃ العلماء کے نظام و دستور العمل کی شکل میں ظاہر ہوا۔ جس نے دار العلوم کا یہ مرقع (مسودہ) جس کو

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader