شبلی اور علی گڑھ
Urdu book, p. 140
By Maulana Wahiduddin Khan
سیاح روم و شام نے اپنے قلم سے کھینچا ہے ، دیکھا ہے۔ اس کو نظر آئے گا کہ روم و شام میں جو کچھ محسوس ہوا ہے اس کی تصویر ہندوستان میں کھینچنے کی کوشش کی گئی ہے۔ ( حیات شبلی ، صفحہ 217) علی گڑھ سے مولانا شبلی کا تعلق 1883ء میں قائم ہوا اور صدی کے آخر تک جاری رہا۔ اس مدت میں مولانا کا تجربہ اور مطالعہ ان پر واضح کر چکا تھا کہ قوم کی اصلاح و ترقی کے لیے کیا کچھ کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک طرف وہ خود ایسی علمی اور تاریخی کتابیں تصنیف کرنا چاہتے تھے جو قوم کے لیے ذہنی انقلاب کی بنیاد بن سکیں ۔ دوسری طرف ان کے ذہن میں کم از کم دو ایسے اداروں کا نقشہ آپکا تھا جو اگلی نسل میں شبلی جیسے انسانوں کا تسلسل باقی رکھنے والا ہو۔ ایک ایسی درس گاہ جو جدید و قدیم کی تعلیم کا مرکز ہو۔ اور دوسرے ایک ایسا تصنیفی ادارہ جو اسلامی موضوعات کے لیے اعلیٰ درجہ کے اہلِ قلم تیار کرے۔ ان کے پہلے خواب کی تعبیر دار العلوم ندوۃ العلماء تھا اور دوسرے کی تعبیر دار المصنفین۔ یہ دونوں ادارے آج بھی قائم ہیں۔ اگر چہ یہ کہنا مشکل ہے کہ انہوں نے شبلی کے مطلوب انسان تیار کرنے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ مولانا شبلی اب جو کام کرنا چاہتے تھے اس میں کالج کی ملازمت ایک رکاوٹ تھی۔ ان کی خواہش تھی کہ درس و تدریس کی ذمہ داریوں سے یکسو ہو کر مندرجہ بالا قسم کے کام پر لگ جائیں۔ خوش قسمتی سے حیدر آباد نے ان کے لیے یہ موقع فراہم کر دیا۔ مولوی سید علی بلگرامی اور نواب وقار الملک کی کوششوں سے ریاست نے ان کے لیے ایک مستقل وظیفہ جاری کر دیا تا کہ وہ یکسو ہو کر اپنے مشن کی تکمیل میں لگ جائیں ۔ اس سلسلے میں حیدر آباد کی طرف سے جو فرمان جاری ہوا اس کے ابتدائی الفاظ یہ تھے : مولوی شبلی صاحب جو اس وقت علی گڑھ کالج میں عربی اور فارسی کے پروفیسر ہیں ، ایک نہایت قابل اور لائق شخص ہیں اور تصنیف میں ایک خاص مذاق رکھتے ہیں۔ اب ان کی تمنا ہے کہ اپنے پورے وقت کو تصنیف کے کام میں صرف کریں اور معمولی درس

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader