شبلی اور علی گڑھ
Urdu book, p. 141
By Maulana Wahiduddin Khan
و تدریس کو ترک کر دیں۔ مولوی صاحب موصوف کو تصنیف کے کام میں فارغ البالی کے ساتھ مصروف کرنا ایک قومی کام ہے اور اس وقت کوئی عالم ہندوستان میں ایسا نہیں ہے جو پرانے ذخیروں سے اس طرح کام لے۔ اس تمہید کے بعد فرمان میں کہا گیا تھا کہ چونکہ سرکار سے ایسے شخص کی اعانت ضروری ہے، اس لیے ان کے لیے وظیفہ جاری کرنے کی منظوری دی جاتی ہے۔ یہ وظیفہ ابتدائیٰ سو روپے ماہوار تھا اور آخر میں بڑھا کر تین سو کر دیا گیا۔ شبلی نے علی گڑھ میں جو کام کیا اس کو صحیح طور پر سمجھنے کے لیے ضروری ہے کہ اس میں ایک اور چیز کو شامل کیا جائے۔ اس کے بغیر یہ مطالعہ خالص علمی اعتبار سے ناقص رہے گا۔ اور وہ ہے وہ زمانہ جس میں شبلی کو کام کرنے کا موقع ملا۔ شبلی کا زمانہ انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کا زمانہ ہے۔ اس زمانہ میں ہندوستان اس سے بہت مختلف تھا جو آج ہمیں نظر آتا ہے۔ اس وقت مسلم غلبہ کا تسلسل نوابوں اور زمینداروں کی سطح پر بدستور جاری تھا۔ اردو ملک کی زبان تھی، حتی کہ اس وقت کے بیرونی حکمراں (انگریز) بھی عام طور پر اردو کو سمجھتے تھے۔ ماضی کے نتیجہ میں شعر و شاعری کی عظمت ابھی تک لوگوں کے ذہنوں پر چھائی ہوئی تھی۔ یہ اور اس قسم کے دوسرے اسباب تھے جنہوں نے شبلی کو وہ اعلیٰ مواقع کر دیے جن کی مثالیں ان کی زندگی میں ملتی ہیں۔ اسی کے ساتھ ایک اہم بات یہ تھی کہ قدیم روایات کے نتیجہ میں ابھی تک قدر دانی کا ماحول موجود تھا۔ ایک شخص کے اندر جوہر دیکھ کر وقت کے بڑے لوگ کھلے طور پر اس کا اعتراف کر سکتے تھے۔ یہ تمام چیزیں وہ ہیں جو آج کل بالکل ختم ہو چکی ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ آج شبلی جیسی شخصیتیں بھی کہیں نظر نہیں آتیں۔ مضمون کو ختم کرتے ہوئے میں کہوں گا کہ شبلی کو علی گڑھ کا بہترین انتخاب کہا جا سکتا ہے۔ اسی طرح شبلی کے بارے میں یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان کے سولہ سال جو علی گڑھ میں گزرے وہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader