علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 142
By Maulana Wahiduddin Khan
ان کی زندگی کے بہترین سال تھے۔ اس طرح دونوں کو وہ چیز ملی جس کی دونوں میں سے ہر ایک کو ضرورت تھی ۔ شبلی نے علی گڑھ کے اوپر اسلام کی تاریخی اور علمی عظمت قائم کی جس کا وہ اس وقت بے حد محتاج تھا۔ اسی طرح علی گڑھ نے شبلی کو جدید کا عرفان دیا جس کے نتیجہ میں انیسویں صدی کے آخر اور بیسویں صدی کے آغاز کے درمیان وہ اسلامی شخصیت ابھر سکی جس کو مولانا سید سلیمان ندوی نے ” عہدِ جدید کا معلم اول “ کا لقب دیا ہے۔ شبلی اور علی گڑھ کے دو مختلف دھاروں کا ملنا اس امتزاج کو وجود میں لایا جس نے اسلامی تاریخ پر اعلیٰ ترین کتابیں تخلیق کیں جس نے دار العلوم ندوۃ العلما کی بنیاد رکھی ، جو دارالمصنفین کی شکل میں ظاہر ہوا ۔ اور اس سے بھی بڑھ کر جس نے قوم کی اگلی نسلوں کو وہ ہیجان اور شعور دیا جو آج بھی جدید پر قدیم کو غالب کرنے کی امانت اپنے سینوں میں لیے ہوئے ہے۔ جو زمانہ کی وقتی قدروں پر اسلام کی دائمی قدروں کو بالا کرنے کے لیے بے چین ہے۔ جس طرح علی گڑھ زندہ ہے ، اسی طرح شبلی بھی زندہ ہے اور دونوں پھر اسی طرح ایک دوسرے سے ملیں گے جس طرح وہ ماضی میں باہم ملے تھے ۔ یہ تاریخ کا فیصلہ ہے اور تاریخ کا فیصلہ بہر حال پورا ہو کر رہتا ہے۔ نوٹ : ” شبلی ڈے “ کے موقع پر 3 مارچ 1968 کو یونین ہال مسلم یونیورسٹی علی گڑھ میں پڑھا گیا۔ (الرسالہ، ستمبر 1986) اقرب الاسلام مولانا جمیل الرحمن سیوہاروی نائب مفتی دار العلوم دیوبند نے ایک مرتبہ مولانا انور شاہ کشمیری سے پوچھا فلسفہ قدیم و جدید میں کون سا اسلام سے قریب ہے ؟ تو فرمایا کہ فلسفہ قدیم البعد عن الاسلام ( قدیم فلسفہ اسلام سے سب سے زیادہ دور ) ہے اور فلسفہ جدید اقرب الی الاسلام ( جدید فلسفہ اسلام سے سب سے زیادہ قریب ) ہے۔ ( ملفوظات محدث کشمیری ، صفحہ 95-94 ) ( ڈائری ، 18 مئی 2000 )

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader