Urdu book · علما اور دینی مدارس

ذہاب العلما

Urdu book, p. 143

By Maulana Wahiduddin Khan

ذہاب العلما مولانا قاضی مجاہد الاسلام قاسمی ایک ممتاز رہنما اور ایک مستند عالم دین تھے ۔ وہ 19 اکتوبر 1939ء کو دربھنگہ میں پیدا ہوئے۔ وہ مختلف اعلیٰ حیثیتوں کے ساتھ اسلام اور ملت اسلام کی قابل قدر خدمات انجام دیتے رہے۔ اپنی آخری عمر میں وہ آل انڈیا مسلم پرسنل لا بورڈ کے چیئر مین تھے۔ 4 اپریل 2002ء کو دہلی میں اُن کا انتقال ہو گیا۔ اِنَّا لِلّٰہِ وَاِنَّا اِلَیْہِ رَاجِعُون۔ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی کی موت دورِ آخر کے اس ظاہرۃ کی ایک مثال ہے جس کو حدیث میں ذہاب العلما کہا گیا ہے۔ یعنی علما کا چلے جانا یا علما کا اُٹھ جانا۔ عام طور پر اس کا مطلب یہ لیا جاتا ہے کہ علما ایک کے بعد ایک مر جائیں گے اور پھر کوئی عالم دنیا میں باقی نہ رہے گا۔ مگر زیادہ صحیح بات یہ ہے کہ یہاں علما سے مراد اجتہادی صلاحیت کے علما ہیں۔ اصل یہ ہے کہ اس حدیث میں علما سے مراد بلند پایہ علما ہیں۔ تاہم اس کا مطلب سادہ طور پر بلند پایہ علما کی رحلت نہیں ہے، بلکہ اس سے مراد ملت کے بلند پایہ افراد کا علما کی صف میں شامل نہ ہونا ہے۔ یعنی علما بننے کے قابل لوگ لوگ علما بننا چھوڑ دیں گے ۔ اس سے مراد اشخاص کا خاتمہ نہیں ہے بلکہ دور کا خاتمہ ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ اس قسم کی بہت سی حدیثیں صنعتی دور میں پیدا ہونے والے حالات کی پیشین گوئی ہیں ۔ صنعتی دور میں ترقی کے مواقع اور مادی چمک دمک بہت بڑھ جائے گی ، اس بنا پر دنیا کی طرف رغبت (temptation) میں اتنا زیادہ اضافہ ہو جائے گا کہ اعلیٰ صلاحیت کے لوگ دنیوی شعبوں کی طرف بھاگنے لگیں گے ۔ اس صورت حال کو ایک شاعر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے: فریب جلوہ اور کتنا مکمل اے معاذ اللہ بڑی مشکل سے دل کو بزم عالم سے اُٹھایا یا خِیَارُ کُمُ فِی الْجَاھِلِيَّةِ خِیَارُ کُمُ فِی الإِسْلَامِ (مسند احمد، حدیث نمبر 10296) کے

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page