ذہاب العلما
Urdu book, p. 144
By Maulana Wahiduddin Khan
مطابق ، اعلیٰ صلاحیت کا آدمی ہی اعلیٰ عالم بنتا ہے۔ جب اعلیٰ اذہان دین کی طرف راغب نہ ہوں گے تو فطری طور پر یہ ہوگا کہ دین کی صفیں اعلیٰ قسم کے علما سے خالی ہو جائیں گی۔ اس کے بعد صرف وہ لوگ دینی شعبوں اور دینی اداروں کو مل سکیں گے جو اپنی کم تر صلاحیت کی بنا پر مادی ترقی کے بڑے مناصب میں اپنی جگہ بنانے کی اہلیت نہ رکھتے ہوں۔ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی غیر معمولی صلاحیت کے مالک تھے۔ وہ تقریر اور تحریر ، انتظام اور معاملہ فہمی ، بصیرت اور تدبر میں اعلیٰ قابلیت رکھتے تھے۔ وہ اگر سیکولر ڈگری اور سیکولر پروفیشن کو اپنا میدان بناتے تو یقیناً وہ بڑے بڑے دنیوی مناصب پر فائز ہو سکتے تھے۔ اس طرح یہ ذہاب العلما کا ایک واقعہ ہوتا۔ مگر انہوں نے اپنی اعلیٰ صلاحیت کو اسلام اور ملت اسلام کی خدمت میں لگانے کو ترجیح دی۔ دنیا کے مادی بازار میں اپنی اعلیٰ صلاحیتوں کی بڑی قیمت لینے کے بجائے قناعت کا طریقہ اختیار کرتے ہوئے انہوں نے اپنے آپ کو دین کے لیے وقف کر دیا۔ وہ ایک ایسے عالم بن گئے جنہوں نے مادی ترقی کے حصول کو اپنا نشانہ نہیں بنایا۔ انہوں نے دنیا کی طرف جانے کے بجائے دین کی طرف جانے کو اپنی تو جہات کا مرکز بنا لیا۔ وہ ان خوش قسمت افراد میں سے تھے جنہوں نے اپنی اعلیٰ فطری صلاحیت کے باوجود اپنی صلاحیت کو دنیا کے بازار میں کیش نہیں کرایا بلکہ اس کو دین کے حوالے کر دیا۔ انہوں نے مختلف مقامات پر سیکٹروں کی تعداد میں ملّی ادارے قائم کیے۔ ملک کے اندر اور ملک کے باہر بہت سی ممتاز علمی اور ملی تنظیموں میں انہیں اعلیٰ مناصب دیے گئے ، وغیرہ۔ مولانا اشرف علی تھانوی ( وفات 1943) سے کسی نے کہا کہ آپ کے مدرسوں میں آج کل اعلیٰ قابلیت کے علما پیدا نہیں ہوتے۔ مولانا نے جواب دیا کہ اصل بات یہ نہیں ہے۔ اصل یہ ہے کہ اعلیٰ قابلیت کے لوگ اب مدرسوں میں نہیں آتے۔ یہی مطلب ذہاب العلما کا ہے جس کو مولانا اشرف علی تھانوی نے اپنے سادہ انداز میں اس طرح بیان کر دیا۔ یہ نئی صورت حال جو موجودہ زمانہ میں پیدا ہوئی ، اس کا سبب کیا ہے۔ جیسا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader