ذہاب العلما
Urdu book, p. 145
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ عرض کیا گیا، اس کا سبب یہ ہے کہ جدید صنعتی انقلاب نے دولت کمانے کے جو نئے طریقے پیدا کیے ہیں اُس میں اعلیٰ صلاحیت کے لوگوں کو ایسے برتر امکانات نظر آنے لگے جو پہلے کبھی نہیں تھے۔ قدیم زمانہ میں معیشت کا دار و مدار زیادہ تر روایتی انداز کی زراعت پر تھا۔ اس نظام کے تحت کمائی کے مواقع بہت محدود ہوتے تھے۔ مگر جدید ٹیکنالوجی اور جدید تجارتی شعبوں نے کمائی کے مواقع لاکھوں گنا زیادہ بڑھا دیے ہیں۔ اب "عاجلہ" میں اتنی زیادہ کشش پیدا ہوگئی ہے جو پہلے کبھی نہیں تھی۔ مادی ترقی کی یہی بڑھی ہوئی کشش ہے جس نے اعلیٰ صلاحیت کے لوگوں کا رُخ اُن تعلیمی اداروں سے ہٹا دیا جہاں علما پیدا کیے جاتے ہیں۔ وہ تیزی کے ساتھ اُن سیکولر تعلیمی اداروں کی طرف بھاگنے لگے جہاں وہ افراد پیدا کیے جاتے ہیں جو جدید ترقیاتی شعبوں میں اعلیٰ مناصب پاسکیں۔ اس اعتبار سے دیکھیے تو مولانا مجاہد الاسلام قاسمی حقیقی معنوں میں دور جدید کے اسلامی مجاہد تھے ۔ موجودہ زمانہ میں سب سے بڑا اجتہد یہ ہے کہ ایک باصلاحیت آدمی مواقع دنیا کے مقابلہ میں مواقع دین کے لیے اپنے آپ کو وقف کر سکے۔ یہ قربانی کی وہ قسم ہے جو کسی آدمی کو عظیم مجاہد بنادیتی ہے، اور مولانا مرحوم بلاشبہ اس معنیٰ میں دور جدید کے مجاہدِ اسلام تھے۔ مولانا مجاہد الاسلام قاسمی کی متنوع خوبیوں میں سے ایک خوبی یہ تھی کہ وہ اپنے ہر دل عزیز اوصاف کی بنا پر ہر طبقہ کے درمیان مقبول تھے۔ مسلمانوں کے ہر مکتب فکر کے درمیان اُن کو عزت کی نگاہ سے دیکھا جاتا تھا۔ وہ ایک ممتاز عالم ہونے کے ساتھ ایک مقبول رہنما کی حیثیت رکھتے تھے۔ اللہ تعالیٰ سے دعا ہے کہ نئی نسل کے درمیان ایسے لوگ پیدا ہوں جو مولانا مرحوم کی راہ پر چلیں۔ ملت کے درمیان ایسے افراد کا خلا نہ ہونے پائے جن کو بیک وقت علمی استناد بھی حاصل ہو اور اسی کے ساتھ عوام کی مقبولیت بھی۔ مولانا مرحوم کی زندگی جدید مسلم نسل کو یہ مثبت پیغام

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader