علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 146
By Maulana Wahiduddin Khan
دیتی ہے کہ میری موت کو ماتم کا عنوان نہ بناؤ ، بلکہ اُس کو عزمِ نو کا عنوان بناؤ۔ ملت کے کام کو میں نے جہاں چھوڑا ہے وہاں سے آغاز کر کے آگے بڑھو۔ تعمیر ملت کے عمل کو مسلسل جاری رکھو۔ یہاں تک کہ تم اُس کی آخری منزل پر پہنچ جاؤ۔ (الرسالہ، جون 2002) فقہ کا مطلب حضرت عمر فاروق نے فرمایا: تَفَقَّهُوا قَبْلَ أَنْ تُسَوَّدُوا (صحیح البخاری، جلد 1، صفحہ 25)۔ یعنی سردار بننے سے پہلے تفقه حاصل کرو۔ حضرت عمر کے اس قول سے موجودہ زمانہ کے بہت سے لوگ اُس فن کی اہمیت پر استدلال کرتے ہیں، جس کو فقہ کہا جاتا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ سردار یا قائد کو فقہ کا علم ہونا ضروری ہے۔ مگر یہ استدلال صحیح نہیں۔ حضرت عمر کے اس قول سے اس فن کی اہمیت ثابت نہیں ہوتی، جو امام ابو حنیفہ اور دوسرے فقہا کے ذریعہ وجود میں آیا۔ حضرت عمر کے اس قول سے فقہ کی اہمیت ثابت کرنے والے لوگ بھول جاتے ہیں کہ موجودہ فقہ حضرت عمر فاروق کے زمانہ میں موجود ہی نہ تھی۔ اگر مذکورہ قول کے یہ معنی لیے جائیں تو تمام صحابہ (بشمول عمر فاروق) سرداری اور قیادت کے لیے نا اہل قرار پائیں گے۔ کیوں کہ ان کا زمانہ موجودہ فقہ سے پہلے کا تھا۔ چنانچہ ان کے لیے یہ ممکن نہ تھا کہ موجودہ فقہ میں تبحر حاصل کریں۔ حقیقت یہ ہے کہ حضرت عمر کے قول میں تفقه سے مراد حکمت و بصیرت حاصل کرنا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ سرداری اور قیادت کے لیے دین کا سادہ علم کافی نہیں ہے، بلکہ دین میں گہری بصیرت ضروری ہے۔ گہری بصیرت کے بغیر جو شخص دینی قائد بنے گا، وہ قوم کو ہلاکت کے گڑھے میں لے جائے گا۔ (اوراق حکمت، ڈائری، 4 مارچ 1985)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader