Urdu book · علما اور دینی مدارس

رجل موہوب

Urdu book, p. 147

By Maulana Wahiduddin Khan

رجل موہوب عالم اسلام کی معروف شخصیت مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا 31 دسمبر 1999 کو انتقال ہوگیا۔ مولانا موصوف 1913 ء میں پیدا ہوئے۔ ان کی شخصیت گویا سوسالہ دور کا احاطہ کیے ہوئے تھی۔ تاریخ میں وہ اس دور کی علامت کے طور پر دیکھے جائیں گے۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی بیک وقت مختلف اور متنوع خصوصیات کے مالک تھے۔ وہ ایک ممتاز عالم تھے۔ دار العلوم ندوۃ (لکھنؤ) کو ان کے زمانے میں غیر معمولی ترقی حاصل ہوئی۔ انہوں نے آل انڈیا مسلم پرسنل لاء بورڈ اور اسی طرح دوسرے بہت سے اداروں کی کامیاب قیادت کی۔ بیسویں صدی میں اٹھنے والی تقریباً تمام بڑی بڑی اسلامی تحریکوں سے ان کا براہ راست یا بالواسطہ تعلق تھا۔ وہ ہر حلقہ اور ہر گروہ میں یکساں طور پر عزت و اعتماد کی نظر سے دیکھے جاتے تھے۔ ان کو بلا اختلاف ایک بین اقوامی شخصیت کہا جاسکتا ہے۔ کبھی ایسا ہوتا ہے کہ ایک فرد اپنی قوم میں نمائندہ قوم کی حیثیت حاصل کرلیتا ہے۔ مولانا موصوف کو یہی حیثیت حاصل تھی۔ ایسا شخص کسی قوم کے لیے بے حد قیمتی ہے۔ اپنی اس حیثیت کی بنا پر وہ پوری قوم کے لیے شیرازہ اتحاد بن جاتا ہے۔ وہ اپنی قوم اور دوسری قوموں کے درمیان عملاً رابطہ کا درجہ حاصل کرلیتا ہے۔ وہ تمام لوگوں کے لیے مرجع قوم بن جاتا ہے۔ یعنی ایک ایسا شخص جس سے پوری قوم کے معاملے میں رجوع کیا جاسکے۔ وغیرہ۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کی ذات میں یہ تمام حیثیتیں بہ تمام و کمال جمع ہوگئی تھیں۔ مولانا محمد منظور نعمانی نے ایک بار مولانا موصوف کو ”رجل موہوب“ کہا تھا۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کے لیے یہ خطاب لفظاً بلفظ درست ہے۔ مولانا سید ابو الحسن علی ندوی کا کارنامۂ حیات تقریباً پوری صدی پر پھیلا ہوا ہے۔ وہ اپنی ذات میں ایک متحرک صدی تھے۔ صدی کی آخری

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page