Urdu book · علما اور دینی مدارس

اعظم گڑھ کا سفر

Urdu book, p. 162

By Maulana Wahiduddin Khan

اعظم گڑھ میں میں اپنے بڑے بھائی کے ساتھ ان کے گھر باقی منزل کے ایک کمرے میں اپنے بیوی بچوں کے ساتھ رہتا تھا۔ اعظم گڑھ میں میری بیوی کی ایک سہیلی تھیں، اُن کا نام رضیہ تھا۔ رضیہ کے شوہر اور باپ دونوں وکیل تھے ۔ معاشی اعتبار سے بظاہر اُن کا تعلق ایک آسودہ فیملی سے تھا۔ ایک دن میں کسی کام سے باہر گیا ہوا تھا۔ واپس آ کر جب میں باقی منزل میں اپنے کمرے میں داخل ہوا تو وہاں میری بیوی سابعہ خاتون (وفات 2006) بیٹھی ہوئی تھیں۔ داخل ہوتے ہی انہوں نے جو پہلی بات کہی، وہ یہ تھی کہ رضیہ کہتی ہیں کہ تمھارے شوہر کوئی معاشی کام نہیں کرتے۔ وہ اپنے بڑے بھائی کی کمائی پر رہتے ہیں۔ ان کی زندگی تو اس طرح گزر جائے گی، لیکن اُن کے بعد تمھارا اور تمھارے بچوں کا کیا حال ہوگا۔ اُس وقت میری بیوی کمرے میں ایک چار پائی پر بیٹھی ہوئی تھیں اور میں وہاں ان کے پاس کھڑا تھا۔ میں نے کھڑے کھڑے جواب دیا۔ مجھے وہ الفاظ اب تک یاد ہیں جو میں نے اُس وقت کہا تھا۔ میں نے کہا کہ— رضیہ سے کہہ دو کہ یہ کشتی اپنے تمام سواروں سمیت بس اللہ کے حوالے ہے۔ یہ الفاظ جو اچانک میری زبان سے نکلے تھے، غالباً الہامی الفاظ تھے۔ میری بعد کی پوری زندگی ان الفاظ کی تصدیق بن گئی ۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے، جیسے کہ قرآن کے یہ الفاظ پوری طرح میری زندگی پر صادق آتے ہیں: وَمَنْ يَّتَوَكَّلْ عَلَى اللَّهِ فَهُوَ حَسْبُهُ (65:3) ۔ یعنی، اور جو شخص اللہ پر بھروسہ کرے گا تو اللہ اس کے لیے کافی ہے۔ اعظم گڑھ میں جب میں شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں ٹھہرا ہوا تھا، اُس وقت مجھے اس کالج سے متعلق ایک واقعہ یاد آ گیا۔ یہ واقعہ میری زندگی کا ایک بے حد سبق آموز واقعہ ہے۔ یہ 1966 کی بات ہے جب کہ میں اعظم گڑھ میں مقیم تھا اور انگریزی زبان اور انگریزی علوم کے حصول میں بہت زیادہ غرق تھا، اُس زمانے میں مجھے یہ احساس ہوا کہ میں جدید مغربی افکار کو سمجھوں۔ برطانیہ کا مشہور فلسفی برٹرینڈ رسل (وفات 1970) کو مغربی فکر کا امام

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page