اعظم گڑھ کا سفر
Urdu book, p. 163
By Maulana Wahiduddin Khan
سمجھا جاتا ہے۔ میں نے چاہا کہ میں برٹرینڈ رسل کی کتابوں کو پڑھوں۔ اس کی تلاش میں میں شبلی کالج کی لائبریری میں گیا۔ وہاں ایک الماری میں برٹرینڈ رسل کی کتابوں کا ایک سیٹ رکھا ہوا تھا۔ میں نے لائبریرین سے کہا کہ میں ان کتابوں کو پڑھنا چاہتا ہوں۔ آپ بہ یک وقت ان میں سے کتنی کتابیں مجھے دے سکتے ہیں۔ لائبریرین نے کہا کہ یہاں ان کتابوں کو کوئی پڑھتا نہیں ہے، یہ صرف یہاں رکھی ہوئی ہیں۔ آپ پورا سیٹ لے جائیے۔ پڑھ کر واپس کر دیجیے۔ میں تمام کتابوں کو لے کر واپس اپنے گھر آگیا۔ میں نے اپنی بیوی سے کہا کہ یہ اُس رائیٹر کی کتابیں ہیں جو موجودہ زمانے میں سب سے بڑا ملحد (atheist) انسان سمجھا جاتا ہے۔ یہ سن کر میری بیوی متوحش ہو گئیں۔ انہوں نے کہا کہ اب آپ ضرور گم راہ ہو جائیں گے۔ یہ ایک واقعہ ہے کہ برٹرینڈ رسل اس دور کا سخت ترین ملحد ہے۔ اس لحاظ سے، اس کی تصنیفات کو پڑھنا عام ذوق کے مطابق، خطرے سے خالی نہیں تھا۔ مگر خدا کا شکر ہے کہ میں رسل کی دنیا میں داخل ہو کر اُس سے اس طرح نکلا کہ میرا ایمان پہلے سے زیادہ پختہ ہو چکا تھا۔ برٹرینڈ رسل کی کتابوں کو پڑھ کر میں نے جو کچھ پایا، اُس کا مختصر ذکر میں نے اپنی کتاب ”مذہب اور سائنس“ میں کیا ہے۔ یہ کتاب اردو کے علاوہ، عربی اور انگریزی زبان میں بھی چھپ چکی ہے۔ میرے مذکورہ علمی تجربے کو اس کتاب میں دیکھا جا سکتا ہے۔ اپنی عمر کے ابتدائی دور میں جب میں اعظم گڑھ میں مقیم تھا تو اکثر میں دارالمصنفین جایا کرتا تھا، جو میرے گھر سے بہت قریب تھا۔ یہ علمی ادارہ مولانا شبلی نعمانی نے اپنے آخری زمانے میں قائم کیا تھا۔ اس ادارے سے میری دلچسپی کا سبب زیادہ تر ہوا کرتا تھا— اہلِ علم سے ملنا، اور یہاں کے کتب خانے سے استفادہ کرنا۔ اُس وقت مولانا مجیب اللہ ندوی (وفات 2006) یہاں بطور رفیق رہا کرتے تھے۔ ایک بار مولانا مجیب اللہ ندوی سے اس موضوع پر گفتگو ہو رہی تھی کہ آدمی کو کب لکھنے کا کام کرنا چاہیے ۔ انہوں نے کہا کہ میں نے اپنے استاد مولانا سید سلیمان ندوی ( وفات 1953) سے یہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader