اعظم گڑھ کا سفر
Urdu book, p. 164
By Maulana Wahiduddin Khan
سوال کیا تھا۔ انہوں نے اس کا جواب ان الفاظ میں دیا تھا— اتنا پڑھو، اتنا پڑھو کہ اپنے لگے۔ اس کے بعد لکھو۔ اعظم گڑھ کے زمانۂ قیام میں میرا سارا وقت کتابوں کے مطالعے میں گزرتا تھا۔ اُس زمانے میں میرا حال یہ تھا کہ میں نہ صرف اپنے گھر پر یا لائبریریوں میں کتابوں کا مطالعہ کرتا تھا، بلکہ راستہ چلتے ہوئے بھی میرے پاس کتاب ہوتی تھی اور دونوں ہاتھوں میں لیے ہوئے میں اس کو پڑھتا رہتا تھا۔ میری عادت تھی کہ میں ہمیشہ ٹریفک اصول کے مطابق، بالکل بائیں طرف (extreme left) چلتا تھا۔ میری ماں زیب النسا (وفات 1985) کو معلوم ہوا کہ میں راستہ چلتے ہوئے کتاب پڑھتا ہوں تو انہوں نے کہا کہ یہ شخص ضرور ایک دن سڑک پر کسی سواری سے ٹکرا کر مرے گا۔ دارالمصنفین کا کتب خانہ مولاناشبلی نعمانی اور مولانا سید سلیمان ندوی کی کوششوں سے قائم ہوا تھا۔ اس کتب خانے میں قرآن کی عربی تفاسیر، حدیث کی کتابیں اور اسلامی تاریخ کے موضوع پر عربی زبان میں تقریباً تمام مستند کتابیں موجود تھیں۔ اس طرح مجھے ایک ہی کتب خانے میں اسلام کے بنیادی موضوعات پر گہرے مطالعے کا موقع مل گیا۔ کارل مارکس (وفات 1883) کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ اُس نے اقتصادیات اور اُس کے متعلق موضوعات کا تفصیلی مطالعہ جرمنی کے کتب خانے میں کیا تھا۔ اُس زمانے میں اُس کے انہماک کا حال یہ تھا کہ صبح کو جب لائبریری کا دروازہ کھلتا تو کارل مارکس پہلا شخص تھا جو اُس کے اندر داخل ہوتا۔ اسی طرح شام کو جب لائبریری کا دروازہ بند ہوتا تو کارل مارکس آخری شخص تھا جو اُس سے باہر نکلتا تھا۔ دارالمصنفین کے کتب خانے میں مطالعے کے دوران میرا بھی عرصہ دراز تک یہی حال رہا۔ دوپہر کے وقت لنچ (lunch) کے لیے کتب خانہ بند کیا جاتا تھا۔ میں نے وہاں کے لائبریرین سے کہہ دیا تھا کہ آپ باہر سے دروازہ بند کر کے چلے جائیں اور مجھ کو کتب خانے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader