اعظم گڑھ کا سفر
Urdu book, p. 165
By Maulana Wahiduddin Khan
کے اندر چھوڑ دیں۔ اُس زمانے میں مجھے دوپہر کے کھانے کا وقت نہیں ملتا تھا۔ اس بنا پر کبھی کبھی بھوک سے مجھے چکر آجاتا تھا۔ اُس زمانے کا ایک واقعہ میں نے اپنی کتاب ”تعبیر کی غلطی“ میں ان الفاظ میں نقل کیا ہے : ”دار المصنفین (اعظم گڑھ) کے کتب خانے کا وسطی کمرہ ہے۔ چاروں طرف تفسیر، حدیث، فقہ، تاریخ، علم کلام اور لغت کی ایک درجن سے زیادہ الماریاں دیواروں سے لگی ہوئی رکھی ہیں۔ ایک بجے دن کا وقت ہے۔ کتب خانے کے بیرونی دروازے بند ہو چکے ہیں اور تمام لوگ دوپہر کے وقفے میں اپنے اپنے ٹھکانوں کو جا چکے ہیں۔ مکمل تنہائی کا ماحول ہے۔ ایک طرف میں ہوں اور دوسری طرف کتابیں۔ مسلسل مطالعے کی وجہ سے اُس وقت میری کیفیت یہ ہو چکی تھی کہ ایسا معلوم ہوتا تھا، جیسے کسی نے میرے سارے بدن کا خون نچوڑ لیا ہو۔ تفسیر ابن جریر کی ایک جلد دیکھ کر میں اٹھا کہ اُس کو الماری میں رکھ کر دوسری کتاب نکالوں، مگر اٹھا تو کم زوری کی وجہ سے مجھے چکر آ گیا اور میں سمت بھول گیا۔ یہ میرا مدت کا جانا پہچانا کمرہ ہے، مگر تھوڑی دیر تک میں وہاں اس طرح کھڑا رہا کہ میری سمجھ میں نہیں آتا تھا کہ میں کدھر جاؤں اور کس الماری سے کتاب نکالوں۔ کچھ دیر کے بعد ہوش آیا تو معلوم ہوا کہ کتابوں کی متعلقہ الماری فلاں سمت میں موجود ہے“ (صفحہ 14)۔ 30 دسمبر 2008 کو میں اپنی ٹیم کے کچھ افراد کے ساتھ شبلی نیشنل کالج کے گیسٹ ہاؤس میں تھا۔ جامعۃ الفلاح (بلریا گنج، اعظم گڑھ) کے کچھ اساتذہ، مولانا نظام الدین اصلاحی کے ہم راہ ملاقات کے لیے آئے۔ ان حضرات سے دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ پھر انہوں نے ہم لوگوں کو جامعۃ الفلاح آنے کی دعوت دی۔ میں نے اس دعوت کو قبول کر لیا اور اس کے مطابق، اگلے دن صبح کو مولانا نظام الدین اصلاحی کے ساتھ جامعۃ الفلاح کا سفر ہوا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader