اعظم گڑھ کا سفر
Urdu book, p. 166
By Maulana Wahiduddin Khan
جامعۃ الفلاح عربی اور دینی تعلیم کا ایک مشہور ادارہ ہے۔ جامعۃ الفلاح پہنچ کر اس کے مختلف شعبوں کو دیکھنے کا اتفاق ہوا اور یہاں اساتذہ اور طلبہ سے ملاقاتیں ہوئیں۔ اس تعلیمی ادارے کا آغاز 1954 میں ایک معمولی مکتب سے ہوا تھا۔ اس کے بعد حکیم محمد ایوب (وفات 2004) اور دوسرے اصحاب کی مسلسل کوشش سے وہ اب ایک بڑے جامعہ کی صورت اختیار کر چکا ہے۔ اس وقت جامعہ کے دو بڑے حصے ہیں۔ دونوں ایک دوسرے سے الگ الگ ہیں۔ ایک حصے کا تعلق طلبہ سے ہے، اور دوسرے حصے کا تعلق طالبات سے۔ دونوں میں عالمیت اور فضیلت تک تعلیم ہوتی ہے۔ طلبہ کی مجموعی تعداد تقریباً چار ہزار ہے۔ طلبہ کے مقابلے میں طالبات کی تعداد زیادہ ہے۔ جامعۃ الفلاح میں میرے دو خطابات ہوئے۔ ایک، طلبہ کے درمیان اور دوسرا، طالبات کے درمیان۔ طلبہ سے خطاب کا انتظام یہاں کے بڑے ہال میں کیا گیا تھا۔ طلبہ اور اساتذہ دونوں یہاں موجود تھے اور پورا ہال مکمل طور پر بھرا ہوا تھا۔ طلبہ کے سامنے خطاب کرتے ہوئے میں نے جو کچھ کہا، اُس کا خلاصہ یہاں درج کیا جاتا ہے۔ میرے سامنے نوجوان طلبہ بیٹھے ہوئے تھے۔ میں نے کہا کہ جب میں نوجوانوں کو دیکھتا ہوں تو میرا دل بھر آتا ہے۔ میں سوچتا ہوں کہ خدا نے نوجوانوں کی شکل میں اپنی زمین پر کچھ پھول کھلائے ہیں۔ خدا چاہتا ہے کہ یہ پھول مہکیں اور دنیا کو اپنی خوشبو سے معطر کر دیں۔ میں نے کہا کہ اس مدرسے کا نام الفلاح ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ کسی مدرسے کا سب سے زیادہ درست نام ہے۔ کیوں کہ مدرسہ آدمی کو حقیقی فلاح کا راز بتاتا ہے۔ میں نے کہا کہ آپ کو سب سے پہلے شعوری طور پر یہ جاننا چاہیے کہ آپ نے یہاں آکر زندگی کا صحیح آغاز پالیا ہے۔ آپ نے یہاں آکر علم سے اپنی زندگی کا آغاز کیا ہے۔ اور یہ ایک حقیقت ہے کہ اسلام کا آغاز علم (اقرأ) سے ہوا ہے۔ جس آدمی نے زندگی کا صحیح آغاز پالیا، وہ ضرور اس کے صحیح

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader