Urdu book · علما اور دینی مدارس

اعظم گڑھ کا سفر

Urdu book, p. 167

By Maulana Wahiduddin Khan

انجام تک پہنچے گا۔ اسی حقیقت کو ایک مغربی مفکر نے ان الفاظ میں بیان کیا ہے — میرے آغازِ کار کا طریقہ شروع سے آغاز کرنا ہے: My way is to begin from the beginning. اس موقع پر طلبا کی نسبت سے جو باتیں میں نے بتائیں، اُن میں سے ایک یہ تھی کہ حصولِ علم کے لیے روحِ تجسّس (spirit of inquiry) لازمی طور پر ضروری ہے۔ آپ لوگوں کو اپنے اندر تجسّس کی اسپرٹ نہایت گہرائی کے ساتھ پیدا کرنا چاہیے۔ پھر میں نے کہا کہ زندگی کی کامیابی کے لیے حضرت علیؓ کا ایک قول بہت زیادہ اہمیت رکھتا ہے۔ وہ قول یہ ہے — قِيمَةُ كُلِّ امْرِئٍ مَا يُحْسِنُهُ: The value of a person lies in excellence. اس کے بعد کلّیۃ البنات میں جامعہ کی طالبات سے خطاب کرنے کا موقع ملا۔ یہ طالبات نہایت ڈسپلن کے ساتھ جامعہ کے ایک حصے میں بٹھائی گئی تھیں۔ میں نے اپنی تقریر میں ایک مغربی مفکر کے اس قول کو دہرایا — ہر بڑے کام کے آغاز میں ایک عورت موجود ہوتی ہے: There is a woman at the beginning of all great things. اس کی تفصیل کرتے ہوئے میں نے کہا کہ آپ کا یہ مدرسہ آپ کو اسی قسم کی عظیم خاتون بنانے کے لیے قائم کیا گیا ہے۔ میں نے کہا کہ تاریخ کی عظیم خاتون عائشہ صدیقہ تھیں۔ یہ کہنا صحیح ہوگا کہ وہ مدرسۂ نبوت کی ایک کامیاب طالبہ تھیں۔ تجربے سے معلوم ہوتا ہے کہ عورت کے اندر اخذ (grasp) کی صلاحیت مردوں سے زیادہ ہوتی ہے۔ اُس کا ایک ثبوت حضرت عائشہ کی مثال ہے۔ صحیح البخاری کی روایت کے مطابق، حضرت عائشہ نے رسول اللہ ﷺ کی عام پالیسی کو بتاتے ہوئے کہا: مَا خُيِّرَ النَّبِيُّ صلى الله عليه وسلم بَيْنَ أَمْرَيْنِ إِلَّا اخْتَارَ أَيْسَرَهُمَا ( صحيح البخاری، حدیث نمبر 6786)۔ یعنی، جب بھی رسول اللہ ﷺ کو دوا امور کے درمیان اختیار دیا گیا تو آپ نے ہمیشہ آسان تر کا انتخاب کیا۔ یہاں قابلِ لحاظ بات یہ ہے کہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page