Urdu book · علما اور دینی مدارس

اعظم گڑھ کا سفر

Urdu book, p. 168

By Maulana Wahiduddin Khan

رسول اللہ نے لفظی طور پر کبھی یہ بات نہیں کہی تھی۔ اس کے باوجود عائشہ نے رسول اللہ کی پالیسی کے بارے میں اس اہم اصول کو اخذ کیا۔ اس قسم کی اخذیت کا ثبوت کسی مرد کے یہاں نہیں ملتا۔ میں نے کہا کہ انگریزی کا ایک مقولہ ہے_ لیڈیزی فرسٹ (ladies first)_ اس مقولے کی سب سے اعلیٰ مثال پیغمبرانہ تاریخ میں ہے، اور وہ حضرت ہاجرہ کی مثال ہے۔ یہ دراصل ہاجرہ کی عظیم قربانی تھی جس کے ذریعے ہیروئوں کی وہ نسل (nation of heroes) ظہور میں آئی جس میں رسول اور اصحاب رسول جیسے اعلیٰ افراد پیدا ہوئے۔ یہ ایک عظیم تاریخی عمل (process) تھا جس کا آغاز ایک عورت کی بے مثال قربانی سے ہوا۔ میں نے کہا کہ ہر عورت کے لیے اس دنیا میں ایک بڑا رول مقدر ہوتا ہے۔ اس رول کو ادا کرنے کی صرف ایک خاص شرط ہے، اور وہ ہے اپنے آپ کو ڈسٹرکشن (distraction) سے بچانا۔ ہر وہ چیز، جو آپ کو اپنے مقصدِ اعلیٰ کی طرف کامل توجہ دینے سے ہٹائے، وہ ڈسٹرکشن کا ذریعہ ہے۔ مثلاً شاپنگ، آئوٹنگ، فیشن، تقریبات اور اولاد، وغیرہ۔ اسلام کے مطابق، اولاد ایک آزمائش (الّتغابن، 64:15) ہے۔ اولاد کے بارے میں والدین کی ذمے داری اُن کی حقیقی ضرورت کو پورا کرنا ہے، نہ کہ اُن کو قلبی محبت کا مرکز بنانا۔ قلبی محبت کا مرکز صرف خدا وند ذوالجلال ہے، نہ کہ اولاد۔ ہر انسان کے اندر پلس پوائنٹ کے ساتھ ایک مائنس پوائنٹ ہوتا ہے۔ یہی معاملہ عورت کا ہے۔ عورت کے اندر پلس پوائنٹ کے ساتھ ایک مائنس پوائنٹ موجود ہے، اور وہ اُس کا آرائش پسندانہ مزاج ہے۔ عورت کو اپنی اِس کمزوری کے بارے میں شعوری طور پر زیادہ بیدار ہونا چاہیے۔ ورنہ ایسا ہوگا کہ عورت کے اوپر اُس کا آرائش پسندانہ مزاج غالب آجائے گا اور وہ زندگی میں اپنا تعمیری رول ادا کرنے سے قاصر رہے گی۔ جامعۃ الفلاح کے پروگرام میں شرکت کے بعد ہم لوگ بذریعہ کار بڑھ ریا گئے۔ اعظم

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page