اعظم گڑھ کا سفر
Urdu book, p. 174
By Maulana Wahiduddin Khan
شاید آؤں۔ اُس کا نظم و نسق درست کر دیا جائے۔ اُس کو گوگوکل کے طور پر خالص مذہبی مدرسہ بنانا چاہیے، یعنی سادہ زندگی، قناعت اور مذہبی خدمت اس کا مطمحِ زندگی ہو‘‘ (مکاتیبِ شبلی، جلد 2، صفحہ 33)۔ مجھ کو 1938 میں مدرسۃ الاصلاح میں داخل کیا گیا۔ اُس وقت یہ مدرسہ چند چھوٹی عمارتوں پر مشتمل تھا۔ اب وہاں کئی بڑی بڑی عمارتیں بن گئی ہیں۔ مثلاً اُس وقت یہاں کا کتب خانہ (دارالعلومات) صرف ایک کمرے پر مشتمل تھا۔ اب یہاں کتب خانے کے لیے ایک مستقل عمارت بن گئی ہے جس میں کتب خانہ قائم ہے۔ اِس دار المعلومات سے میری کئی یادیں وابستہ ہیں۔ یہاں میں تقریباً روزانہ آتا تھا اور کتابوں اور جرائد کا مطالعہ کرتا تھا۔ اُس وقت یہاں مصر کا ایک عربی جریدہ آتا تھا۔ اُس کا نام ” المقطَف“ تھا۔ اُس میں ایک بار ایک دل چسپ چیز چھپی تھی۔ اُس میں ایک عمل بتایا گیا تھا جس کے مطابق، آدمی اپنے مستقبل کے بارے میں جان سکتا تھا۔ وہ عمل یہ تھا کہ مخصوص تعداد میں ”ابرا کا دا بیسن کاٹن“ کہو۔ اس کے بعد ایک خاص عمل کر کے اپنا نتیجہ نکالو۔ اُس وقت امتحان کا زمانہ تھا اور جلد ہی مجھے سالانہ امتحان دینا تھا۔ میں نے مذکورہ عمل کو دہرایا۔ اُس کے بعد ان الفاظ میں نتیجہ نکلا: سَتَنْجَحُ نَجَاحًا كَبِيرًا (تم جلد ہی ایک بڑی کامیابی حاصل کرو گے)۔ اِس کے بعد امتحان ہوا تو میں اپنے درجے میں فرسٹ آیا۔ یہ صرف ایک اتفاق تھا، ورنہ کسی بھی عمل کے ذریعے مستقبل کو جاننا ممکن نہیں۔ 31 دسمبر 2008 کو مغرب کی نماز کے بعد مدرسے کی وسیع مسجد میں طلبا اور اساتذہ کا ایک اجتماع ہوا۔ اس موقع پر مجھے خطاب کے لیے یہ عنوان دیا گیا تھا— عصرِ جدید اور نوجوانوں کی ذمے داریاں۔ اس موضوع پر میں نے تقریباً ایک گھنٹہ تقریر کی۔ میں نے اپنی تقریر میں جو باتیں کہیں، اُن میں سے ایک بات یہ تھی کہ دورِ جدید کو معلوم کرنے کے لیے سب سے پہلی ضرورت یہ ہے کہ دورِ جدید کے ذہن کو معلوم کیا جائے ۔ اس معاملے میں علامہ

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader