اعظم گڑھ کا سفر
Urdu book, p. 175
By Maulana Wahiduddin Khan
الشاطبی نے اپنی کتاب میں درست طور پر لکھا ہے کہ استدلال نام ہے فریق ثانی کے مسلمہ عقلی پر اس کو ایڈریس کرنے کا (الموافقات للشاطبی، جلد 5، صفحہ 415)۔ اس لیے اگر آپ یہ چاہتے ہیں کہ آج کے انسان کو مؤثر طور پر اسلام کا پیغام پہنچائیں تو آپ کو سب سے پہلے یہ جاننا ہوگا کہ آج کے انسان کا طرزِ فکر کیا ہے اور کون سا طرزِ استدلال اس کے لیے قابل قبول استدلال بن سکتا ہے۔ مدرسۃ الاصلاح کے زمانہ قیام کی بہت سی یادیں ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ اس سفر نامے کے ذیل میں اُن میں سے کچھ کا تذکرہ کر دیا جائے۔ گاؤں کے مدرسے میں میرے استاد مولانا فیض الرحمن اصلاحی تھے۔ میں نے اسی مدرسے میں عربی اور فارسی کی تعلیم شروع کردی تھی۔ اسی زمانے میں میں نے عربی کی کئی کتابیں پڑھیں۔ مثلاً کتاب النحو، کتاب الصرف (مولانا عبد الرحمن، امرت سری)۔ اسی طرح میں نے یہاں فارسی کی کئی کتابیں پڑھیں۔ مثلاً گلستاں اور بوستاں (شیخ سعدی شیرازی)۔ اُس زمانے میں یہ سب کتابیں مجھ کو ایک معمہ کی طرح نظر آتی تھیں ۔ اُس زمانے میں میرے اندر نہ عربی کا کوئی ذوق پیدا ہوا تھا اور نہ فارسی کا کوئی ذوق۔ 1938 میں مجھے مدرسۃ الاصلاح میں داخل کرا لیا گیا۔ یہاں میں نے دوبارہ عربی اور فارسی کی تعلیم حاصل کرنا شروع کیا۔ اچانک مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے کہ میں اندھیرے سے نکل کر اجالے میں آ گیا ہوں ۔ اب ہر مضمون میری سمجھ میں آنے لگا، یہاں تک کہ میں امتحانات میں اچھے نمبر سے پاس ہونے لگا۔ اس ذاتی تجربے سے میں نے یہ جانا کہ تعلیم کے لیے ایک پورا ماحول درکار ہوتا ہے۔ عربی علوم کی تعلیم کے لیے مدرسے کا ماحول ضروری ہے۔ اسی طرح انگریزی علوم کی تعلیم کے لیے کالج اور یونی ورسٹی کا ماحول ضروری ہے۔ انفرادی طور پر پڑھنے سے نہ کسی کو عربی علوم میں درک حاصل ہو سکتا ہے اور نہ انگریزی علوم میں ۔ اس عموم میں استثنا ہو سکتا ہے، لیکن ایسا استثنا صرف ایک نادر استثنا (rare exception) ہے۔ میرے زمانہ تعلیم میں مولانا امین احسن اصلاحی (وفات 1998) مدرسۃ الاصلاح کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader