Urdu book · علما اور دینی مدارس

دارالعلوم دیوبند کا سفر

Urdu book, p. 183

By Maulana Wahiduddin Khan

اسی کے ساتھ ایک اور ضروری کام یہ ہے کہ ہر جگہ کے حالات و وسائل کے لحاظ سے مقامی نوعیت کے کام کیے جائیں ۔ ہر بستی کو ایک اکائی مان کر بستی کی سطح پر منصوبہ بندی کی جائے اور اپنے موجودہ وسائل کو منظم کر کے اس طرح استعمال کیا جائے کہ وہ مستقبل کی تعمیر میں مددگار ہو سکے۔ یہ دوسرا کام وہ ہے جس میں ہر فرد شریک ہو سکتا ہے۔ ہر شخص اپنے حالات کے لحاظ سے اپنے مواقع کار کا اندازہ کرے اور اپنی ذاتی سطح پر ملت کی تعمیر کے لیے وہ جو کچھ کر سکتا ہے اس کے کرنے میں لگ جائے۔ موجودہ حالات خواہ کتنے ہی دل شکن ہوں، مگر یہ ایک حقیقت ہے کہ آدمی کتنا ہی لٹ گیا ہو، پھر بھی کوئی چیز اس کے پاس ”اپنی“ موجود ہوتی ہے، اور اگر دانش مندی سے کام لے کر اس حاصل شدہ چیز کو استعمال کرنا شروع کر دیا جائے تو ہر بربادی کے اندر ایک نئی تعمیر کا امکان نکل آتا ہے۔ آج ہم میں ہزاروں ، لاکھوں لوگ ایسے ملیں گے جو ملت کا مرثیہ پڑھتے ہوئے نظر آئیں گے، جن کے پاس اصلاح ملت کی بڑی بڑی تجویزیں ہوں گی ، مگر مشکل ہی سے اس کی کوئی مثال ملے گی کہ کسی مقام پر کچھ لوگ کوئی ایسا تعمیری کام کر رہے ہوں جو دوسروں کے لیے مثال بن سکے۔ آج سب سے زیادہ ضرورت اس بات کی ہے کہ ہر شخص اپنے اپنے مقام پر اپنے حالات کے لحاظ سے کسی تعمیری کام کا انتخاب کرے اور بس اس کی تکمیل میں لگ جائے ۔ اسی طرح ہر بستی تعمیری سرگرمیوں کی ایک اکائی بن جائے ۔ جب بہت سی اکائیوں میں تعمیری کام ہونے لگے گا تو ان کے مجموعہ سے جو چیز وجود میں آئے گی ، اسی کا نام ملی تعمیر ہے۔ آج ملت میں کچھ ایسا انتشار ہے کہ کوئی ایسی بستی نہیں جس کو نام لے کر یہ کہا جا سکے کہ وہاں ایسا کام ہو رہا ہے اور دوسروں کے سامنے اس کی مثال پیش کی جائے ۔ تاہم دیو بند میں مجھے نظر آیا کہ ، اگر چہ بستی کی سطح پر نہیں، تاہم افراد کی سطح پر اس نوعیت کے کام کی کچھ اچھی مثالیں قائم ہو رہی ہیں جن کا ہم نے اوپر ذکر کیا۔ اس سلسلے میں ملت کی تعمیر نو کے لیے اس وقت تین قسم کے کاموں کی ضرورت ہے : 1۔ فرد سازی : یعنی اپنے قریبی افراد کو لے کر ان کے اندر حالات کا شعور اور عمل کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page