Urdu book · علما اور دینی مدارس

علما اور دینی مدارس

Urdu book, p. 184

By Maulana Wahiduddin Khan

امنگ پیدا کرنا اور ان کو موجودہ حالات میں صحیح انداز سے کام کرنے کے قابل بنانا۔ بچوں کی تعلیم : دینی تربیت کے ساتھ مضبوط ابتدائی تعلیم، خاص طور پر حساب اور انگریزی کی، تا کہ آئندہ وہ اچھے طالب علم ثابت ہوں۔ اقتصادی تنظیم : یعنی مقامی موجودہ وسائل کو اس طرح استعمال کرنا کہ وہ آئندہ تعمیر کی ابتدائی بنیاد بن سکیں۔ یہ تینوں کام خدا کے فضل سے کسی نہ کسی درجہ میں دیوبند میں ہورہے ہیں۔ فرد سازی کا عمدہ نمونہ دارالعلوم میں النادی الادبی کی کوششیں ہیں۔ بچوں کی تعلیم کے لیے پبلک نرسری اینڈ جونیئر اسکول قائم ہو گیا ہے۔ اقتصادی تنظیم کی کامیاب مثال مسلم فنڈ ہے جس کا تعارف اس سے پہلے الجمعیۃ کے صفحات میں آچکا ہے۔ اسی طرح ہر بستی میں اپنی مقامی سطح پر اس قسم کے کام ہونے لگیں تو ، ان شاء اللہ ، وہ واقعہ وجود میں آجاۓ گا جس کو ہم تعمیر ملت کے آغاز سے تعبیر کرتے ہیں۔ صحیح آغاز کے ساتھ اگر استقلال کو شامل کر لیا جاۓ تو اسی کا دوسرا نام کامیابی ہے ( ہفت روزہ الجمعیۃ ، 17 ستمبر 1971 ، صفحہ 6)۔ دشمنی یا چیلنج ایک مسلمان عالم نے کہا کہ ایک خیال بہت پریشان کر رہا ہے۔ آج کل ایسا معلوم ہوتا ہے کہ ساری دنیا کو مسلمانوں سے عداوت ہو گئی ہے۔ ہر جگہ مسلمان مارے جا رہے ہیں ۔ میں نے کہا کہ یہ عداوتی مسئلہ نہیں ہے بلکہ تحدیاتی مسئلہ ہے۔ اور وہ کسی نہ کسی شکل میں ہر ایک کے ساتھ پیش آ رہا ہے۔ تحدی (چیلنج) کی یہ صورتِ حال جاری رہے گی۔ یہاں تک کہ قیامت آجاۓ۔ آپ اس دنیا میں تحدیات (challenges) کا سامنا کر کے ہی جی سکتے ہیں۔ شکایت اور فریاد سے آپ کو کچھ بھی ملنے والا نہیں۔ ( ڈائری ، 5 جنوری 1995)

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page