علما اور دینی مدارس
Urdu book, p. 185
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک طالب علم کو نصیحت دار العلوم دیوبند کے ایک طالب علم کی فرمائش پر میں نے حسب ذیل سطریں اس کی ڈائری میں لکھیں: بِسْمِ اللّٰهِ الرَّحْمٰنِ الرَّحِيْمِ زندگی اس کائنات کی سب سے قیمتی متاع ہے۔ مگر اس متاع کی قیمت بازار حیات میں اس وقت ملتی ہے، جب کہ آدمی خود اس کی قیمت دے چکا ہو۔ زندگی وہ سودا ہے جو خارجی بازار میں فروخت ہونے سے پہلے خود انسان کے اپنے اندر فروخت ہوتا ہے۔ یہ آپ کے حوصلہ کا امتحان ہے، آپ خود اپنی جتنی زیادہ قیمت لگائیں گے بازار عالم میں اتنی ہی زیادہ اس کی قیمت لگے گی۔ اگر آپ چاہتے ہیں کہ آپ کی زندگی دوسروں کی نظر میں زیادہ قیمتی ٹہرے، تو خود سب سے پہلے اس کے خریدار بنئے۔ یہ دوسرے نہیں، بلکہ خود آپ ہیں، جو اس بات کا تعین کرتے ہیں کہ بازار عالم میں آپ کی قیمت کتنی مقرر ہوگی (دیوبند، 3 ستمبر 1971)۔ (ہفت روزہ الجمعیۃ، 17 ستمبر 1971، صفحہ 6) ترقی کا زینہ ایک صاحب ایک عربی مدرسہ میں استاذ تھے۔ کچھ لوگ ان کے خلاف غصہ ہو گئے۔ انھوں نے ان کو اتنا زیادہ پریشان کیا کہ ان کو مدرسہ سے استعفیٰ دینا پڑا۔ وہ مجھ سے ملے تو میں نے ان سے کہا کہ آپ گھبرائیں نہیں یہ آپ کے لیے نئی ترقی کا زینہ ہے۔ باغبان کبھی ایک پودے کو اکھاڑتا ہے صرف اس لیے کہ اس کو دوبارہ کسی زیادہ بہتر جگہ پر نصب کیا جائے ۔ (ڈائری، 5 دسمبر 1996)

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader