Urdu book · علما اور دینی مدارس

مدرسہ قادریہ کا سفر

Urdu book, p. 186

By Maulana Wahiduddin Khan

مدرسہ قادریہ کا سفر مفتی عبد العزیز صاحب رائے پوری نے ستمبر 1979 میں مسروالا (ہماچل پردیش) میں ایک مدرسہ قائم کیا اور اپنے شیخ مولانا عبد القادر رائے پوری کے نام پر اس کا نام مدرسہ قادریہ رکھا۔ اس کے بعد جلد ہی اپنے شاگرد مولانا کبیر الدین فاران مظاہری کو بلا کر اس کا نظام ان کے حوالے کر دیا۔ 1980 سے مولانا کبیر الدین صاحب اس کے ناظم ہیں۔ پچھلے دس سال سے وہ برابر مجھ کو اپنے مدرسہ میں آنے کی دعوت دے رہے تھے، کبھی براہ راست اور کبھی ٹیلی فون پر۔ مگر کسی نہ کسی سبب سے وہاں کا سفر نہ ہوسکا۔ 17 نومبر 1995 کی صبح کو وہ دہلی آئے اور کچھ اس انداز سے اصرار کیا کہ میرے لیے انکار ناممکن ہو گیا۔ میں نے کہا کہ اچھا، میں ابھی آپ کے ساتھ چلتا ہوں۔ چنانچہ اپنے پھیلے ہوئے کاموں کو چھوڑ کر صبح 10 بجے ان کے ساتھ روانہ ہو گیا۔ ہماری گاڑی چلتے ہوئے اس سڑک پر پہنچی جہاں ایک طرف تاریخی جامع مسجد ہے اور دوسری طرف لال قلعہ کی سرخ دیواریں کھڑی ہوئی ہیں۔ لال قلعہ کو دیکھ کر مجھے اردو شاعر کی طویل نظم کا ایک شعر یاد آیا: اے قلعہ سرخ اے اثر شاہ جہاں نئی بر باد شدہ عظمت ماضی کی نشانی یہ شعر موجودہ زمانہ کے مسلمانوں کی نفسیات کی ترجمانی کرتا ہے۔ وہ ماضی کی گزری ہوئی عظمتوں میں اتنا گم ہوئے کہ وہ حال کی حقیقتوں کا صحیح ادراک نہ کر سکے۔ پدرم سلطان بود کی نفسیات نے انہیں مثبت نقطہ نظر سے محروم کر دیا۔ اس المناک صورت حال کا سبب یہ تھا کہ موجودہ زمانہ میں جولوگ مسلمانوں کے رہنما بن کر اٹھے وہ زیادہ تر شاعر اور خطیب اور انشاء پرداز قسم کے لوگ تھے انہوں نے رجز خوانی کی، جب کہ اس وقت اصل ضرورت حقیقت بیانی کی تھی، چنانچہ ان لوگوں نے اپنی غیر حقیقی باتوں سے پوری ملت کے مزاج کو بگاڑ دیا۔ موجودہ زمانہ

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page