مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 187
By Maulana Wahiduddin Khan
میں شاید کوئی بھی ایسا رہنما نہیں جس نے معاملات کو گہرائی کے ساتھ سمجھا ہو اور پھر حقیقت پسندانہ انداز میں مسلمانوں کو درست رہنمائی دی ہو۔ لال قلعہ اور قطب مینار کی حیثیت آج صرف آثار قدیمہ کی ہے۔ جو گروہ لال قلعہ اور قطب مینار کی فضاؤں میں جیتا ہو وہ خود بھی آثار قدیمہ کی ایک مثال بن کر رہ جائے گا، وہ دور جدید میں با عزت مقام حاصل کرنے میں ناکام رہے گا۔ دہلی سے نکل کر آگے بڑھے تو سڑک کے دونوں طرف دور تک درخت اور سبزہ پھیلا ہوا تھا۔ میں نے سوچا کہ ساری کائنات کے مقابلہ میں زمین اس سے بھی زیادہ چھوٹی ہے جتنا کہ پوری زمین کے مقابلہ میں ایک ذرہ۔ مگر اب تک کی معلومات کے مطابق ، زمین ہی ایک ایسی جگہ ہے جہاں پانی اور سبزہ ہے۔ ساری وسیع کائنات میں کہیں بھی پانی اور سبزہ موجود نہیں۔ اسی پانی اور سبزہ نے زمین کو انسان جیسی زندہ مخلوق کے لیے قابل رہائش بنا دیا ہے۔ یہاں اس کے لیے نہ صرف رہائش کا سامان ہے بلکہ تمدنی ترقیوں کے لیے تمام ممکن اسباب بھی موجود ہیں۔ یہ اللہ تعالیٰ کی انتہائی عظیم نعمت ہے۔ اس کا شکر صرف یہ ہے کہ آدمی دل سے اس عطیہ کا اعتراف کرے اور اپنے آپ کو پوری طرح اللہ کی تابعداری میں دے دے۔ یہ سفر مدرسہ کی کار سے ہوا۔ راستہ میں میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے پوچھا کہ 1947 میں جب ملک تقسیم ہوا اس کے بعد ہندستان میں کتنے ایسے مولوی تھے جن کے پاس کار اور ٹیلی فون تھے۔ انہوں نے کچھ دیر سوچا اور پھر بولے کہ شاید ایک بھی نہیں۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ آج کیا حال ہے، انہوں نے کہا کہ آج تو ملک میں ہزاروں مولویوں کے پاس کار اور ٹیلی فون موجود ہیں۔ میں نے کہا کہ ہزاروں نہیں بلکہ لاکھوں ایسے مولوی ہیں جن کو آج براہ راست یا بالواسطہ طور پر کار اور ٹیلی فون کی سہولت حاصل ہے۔ پھر میں نے کہا کہ مگر کوئی بھی مولوی ایسا نہیں جو تحریر یا تقریر کے ذریعہ یہ اعلان کرتا ہو کہ مسلمان اس ملک میں ترقی کر رہے ہیں ، نہ اکابر میں اور نہ غیر اکابر میں ، بلکہ یہی لوگ ہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader