Urdu book · علما اور دینی مدارس

مدرسہ قادریہ کا سفر

Urdu book, p. 188

By Maulana Wahiduddin Khan

جو اپنی تقریروں اور تحریروں میں روزانہ ہندوستانی مسلمانوں کی بربادی کا چرچا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ باہر کے ملکوں میں بھی جا کر وہ اسی قسم کی خبریں لوگوں کو سناتے ہیں۔ مثلاً مکہ کے اخبار ’’العالم الاسلامی‘‘ کے تازہ شمارہ 12 نومبر 1995 میں ایک معروف عالم کا انٹرویو چھپا ہے ۔ اس میں انہوں نے بتایا ہے کہ انڈیا کے مسلمان مخالفانہ موامرات(conspires) کا اور ہندوؤں کی عداوت کا شکار ہو رہے ہیں۔ اس کا عنوان ہے: انڈیا کے مسلمان چکی کے دو پاٹوں کے درمیان (مُسْلِمُوالہِند بَيْنَ فَقّي الرَّحَیٰ)۔ انٹرویو لینے والا اگر سمجھدار ہوتا تو وہ ان سے پوچھتا کہ جب تمام ہندوستانی مسلمان ظلم کی چکی میں پس رہے ہیں تو تم کس طرح اتنے شاندار طور پر اس سے بچنے میں کامیاب ہو گئے۔ ہم کو تو تم وہی تدبیر بتاؤ تاکہ ہم بَشِّرُوا وَلَا تُنَفِّرُوا (بشارة دو، نفرت نہ پھیلاؤ) کے اسلامی اصول پر ہندوستان کے مسلمانوں کو اس کی خوشخبری دے سکیں۔ اپنے ملک کے پڑھے لکھے مسلمانوں کی سوچ کو دیکھ کر مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ان میں سے ہر ایک ماضی کے بوجھ کے نیچے دبا ہوا ہے۔ 1947 سے پہلے مسلمانوں کے لیڈروں نے سمجھا یا کہ ہندوؤں کے ساتھ مسلمانوں کا کوئی مستقبل نہیں۔ اس لیے ہمیں علیحدہ ملک چاہیے ۔ مجھے ایسا محسوس ہوتا ہے کہ ہمارے تمام دماغ آج تک ماضی کے اسی بے بنیاد پر وپیگنڈے میں گم ہیں ۔ وہ سمجھتے ہیں کہ ماضی کے مسلمان لیڈروں کی تقسیم کے مطابق ، ہم ’’ہندووانڈی‘‘ میں ہیں، اس لیے ہم ضرور تباہ حال ہوں گے ۔ چنانچہ وہ ابھی تک وہی ماضی کی بولی بولے چلے جا رہے ہیں۔ حالانکہ واقعہ یہ ہے کہ آج ہندوستان کے مسلمان پاکستان اور بنگلہ دیش کے مسلمانوں سے بھی زیادہ ترقی کر چکے ہیں ۔ خود لکھنے اور بولنے والے طبقہ میں ایک ایک شخص اپنی 1947 کی حالت کے مقابلہ میں آج بہت زیادہ ترقی حاصل کیے ہوئے ہیں۔ مگر تخلیقی فکر کی صلاحیت نہ ہونے کی وجہ سے انہیں اپنے قریبی واقعہ تک کا علم نہیں۔ ماضی کے مسلم رہنماؤں کی سوچ قانون فطرت کے خلاف تھی۔ چنانچہ ان مسلم رہنماؤں کی

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page