Urdu book · علما اور دینی مدارس

مدرسہ قادریہ کا سفر

Urdu book, p. 189

By Maulana Wahiduddin Khan

باتیں فضا میں گم ہوگئیں۔ اور فطرت کا قانون خود اپنی طاقت سے قائم ہوگیا۔ مگر موجودہ مسلمانوں کا حال یہ ہے کہ انہیں صرف اپنے اکابر کی باتوں کا علم ہے، انہیں خدا کے مقرر کیے ہوئے فطری قانون کا کوئی علم نہیں۔ دہلی سے مسر والا کا فاصلہ ڈھائی سو کلومیٹر سے کچھ زیادہ ہے۔ سڑک اچھی ہے۔ راستہ میں سونی پت، پانی پت، کرنال، جمنا نگر وغیرہ پڑتے ہیں۔ ہم لوگ ایک کے بعد ایک ان مقامات سے گزرتے ہوئے آگے بڑھتے رہے۔ میں نے سوچا کہ ان جگہوں کے نام اسی طرح صدیوں سے چلے آ رہے ہیں۔ لیکن ان کے قدیم باشندے آج پیدا ہوں تو ان جگہوں کی بدلی ہوئی صورت کی بنا پر شاید وہ انہیں پہچان نہ سکیں۔ ڈیڑھ بجے ہم لوگ کرنال پہونچے۔ یہاں سڑک کے کنارے ایک مسجد ہے جس کے اوپر ”مسجد صغرا“ لکھا ہوا ہے۔ اس میں جمعہ کی نماز پڑھی۔ مسجد بظاہر قدیم تھی۔ مگر مزید تعمیر کر کے اس کو اندر سے نیا کر دیا گیا ہے۔ پوری مسجد نمازیوں سے بھری ہوئی تھی۔ مجھے قرآن کی آیت یاد آئی کہ جمعہ کی نماز کی اذان ہو تو نماز کے لیے اکٹھا ہو جاؤ اور جب نماز ختم ہو تو خدا کی زمین میں منتشر ہو جاؤ (الجمعہ، 10-62)۔ میں نے سوچا کہ مسجد منتشرین کا مقامِ اجتماع ہے۔ اہل ایمان خدا کی زمین میں پھیلنے والے لوگ ہیں۔ وہ صرف وقتی طور پر مسجد میں ٹھہرتے ہیں تا کہ اس سے نئی توانائی لے کر دوبارہ آگے بڑھ سکیں۔ کرنال میں ایک بہت بڑی مسجد ہے۔ اس کو اندر جا کر دیکھا۔ اس کے امام سید انور حسین صاحب سے ملاقات ہوئی۔ امام صاحب نے چائے کے لیے اصرار کیا مگر ہمارے پاس وقت کم تھا اس لیے معذرت کرنی پڑی۔ مسجد کے باہر ایک کتبہ لگا ہوا ہے۔ اس پر لکھا ہے— تعمیر کردہ نواب عظمت علی خان، رئیس اعظم کرنال۔ وہ نواب زادہ لیاقت علی خاں کے چچا تھے۔ انہوں نے یہ مسجد 1925 میں بنوائی تھی۔ 1947 میں کرنال مکمل طور پر مسلمانوں سے خالی ہو گیا تھا۔ اب دوبارہ مسلمان آ کر یہاں آباد ہو گئے ہیں۔ اس وقت کرنال میں مسلمانوں کی تعداد ایک لاکھ سے زیادہ ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page