مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 190
By Maulana Wahiduddin Khan
عصر کی نماز ہم نے جمنا نگر میں پڑھی۔ وہاں سڑک کے کنارے ایک مسجد تھی۔ اس میں چار پانچ زیادہ عمر کے اور سیدھے سادے مسلمان نظر آئے۔ ان سے پوچھا کہ جمنا نگر میں کتنی مسجدیں ہیں، کسی نے کہا ایک۔ کسی نے کہا تین۔ غرض کافی پوچھ گچھ کے بعد معلوم ہوا کہ وہاں پانچ مسجدیں ہیں۔ اکبر الہ آبادی نے 1947 سے پہلے کے دور میں یہ شکایت کی تھی کہ: بازار میں ہیں لاکھوں، مسجد میں فقط جمّن آج اگرچہ کمیت کے اعتبار سے مسجد کے نمازیوں کی آبادی کافی بڑھ گئی ہے مگر جہاں تک کیفیت کا تعلق ہے، اب بھی مسجد کی آبادی میں زیادہ تر ”جمن“ قسم کے لوگ ہی دکھائی دیتے ہیں۔ کرنال کے ریسٹوران سے کھانا کھا کر ہم لوگ نکلے تو مولانا کبیر الدین صاحب پاس کی ایک دکان پر چلے گئے۔ وہاں انہوں نے پان خریدا جس کی قیمت دو روپیہ تھی۔ پان والا ایک ہندو نو جوان تھا۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے پوچھا کہ تم کہاں کے رہنے والے ہو۔ اس نے کہا کہ سہارن پور۔ پھر پان والے نے کہا، کیا آپ کبھی سہارن پور گئے ہیں۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ ہاں، میں نے وہاں تعلیم حاصل کی ہے۔ اس کے بعد اس نے پان کی قیمت نہیں لی۔ اس نوجوان کا نام ارن تھا۔ وہ دکان سے آ کر مجھ سے ملا۔ مذکورہ واقعہ احساس قربت کا کرشمہ تھا۔ سامنے کے آدمی کو اگر کسی طرح آپ قربت کا احساس دلا دیں، خواہ وہ قربت بالکل معمولی نوعیت کی کیوں نہ ہو تو فورا وہ آپ کا گرویدہ ہو جائے گا۔ دو آدمیوں یا دو گروہوں کے درمیان اجنبیت ہمیشہ نقصان کا باعث ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، قربت اپنے آپ سارے معاملات کو درست کر دیتی ہے۔ ہم لوگ صبح 10 بجے دہلی سے روانہ ہوئے تھے۔ شام کو عشاء کے قریب مسر والا پہنچے، اس سفر میں ہم کبھی آبادی کے درمیان سے گزرے اور کبھی خالی سڑک سے، کبھی ہمارا راستہ کھلے میدان سے طے ہوا اور کبھی ایسے راستہ سے جہاں دونوں طرف جنگل تھا۔ کبھی ہماری گاڑی نشیب پر چلی اور کبھی اس کو اونچائی کے اوپر چڑھنا پڑا۔ میں نے سوچا کہ اسی طرح پوری زندگی ایک سفر

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader