Urdu book · علما اور دینی مدارس

مدرسہ قادریہ کا سفر

Urdu book, p. 191

By Maulana Wahiduddin Khan

ہے جو آخرت پر جا کر ختم ہوتا ہے۔ دنیا میں آدمی مختلف احوال سے گزرتے ہوئے چلا جا رہا ہے۔ یہاں تک کہ اس کی موت آتی ہے اور وہ آخری طور پر اگلی دنیا میں داخل ہو جاتا ہے۔ نمازِ عشاء کے بعد مدرسہ کے دفتر میں اساتذہ اکٹھا ہوئے ۔ اس موقع پر مختلف باتیں ہوئیں۔ ایک صاحب نے کہا کہ کچھ لوگ آپ کے پیغام کے مخالف کیوں ہیں۔ میں نے کہا کہ میں تو سمجھتا ہوں کہ کوئی بھی شخص میرے پیغام کا مخالف نہیں۔ کیونکہ میرا پیغام وہی ہے جو خود فطرت کا قانون ہے۔ اور فطرت کے قانون کو نظر انداز کرنا کسی کے لیے ممکن ہی نہیں۔ پھر میں نے کہا کہ میری تحریریں 99 فیصد اسلام کے تعارف پر مبنی ہوتی ہیں۔ کوئی بھی شخص ان کا مخالف نہیں ہو سکتا۔ کیونکہ اس میں کوئی نئی بات نہیں ہوتی۔ اس میں میں نے صرف یہ کیا ہے کہ اسلام کی متفقہ تعلیمات کو جدید اسلوب میں پیش کیا ہے، اس کا کوئی مخالف نہیں ہو سکتا۔ ایک فیصد وہ ہیں جن کا تعلق برادرانِ وطن سے ہے۔ اس سلسلہ میں میرا کہنا ہے کہ مسلمانوں کو چاہیے کہ برادرانِ وطن کے ساتھ مل جل کر رہیں اور اگر کبھی کسی کی طرف سے اشتعال انگیزی ہو تو اس سے اعراض کریں تا کہ پر امن فضا باقی رہے۔ اس پر بھی تمام کے تمام مسلمان عامل ہیں۔ آپ کسی بھی مسلمان کو لیجیے اور دیکھیے کہ اس کا ذاتی معاملہ جن ہندوؤں سے ہے اس کے ساتھ وہ کس قسم کا سلوک کرتا ہے۔ آپ پائیں گے کہ یہ عین وہی ہے جس کی طرف الرساله میں توجہ دلائی جا رہی ہے۔ میں نے صرف یہ کیا ہے کہ میں لوگوں کے عمل کا اعلان کر رہا ہوں۔ عشاء کی نماز مدرستہ قادریہ کی مسجد میں پڑھی۔ مسجد بالکل جدید طرز کی ہے اور سادگی کے ساتھ خوبصورتی کا عمدہ نمونہ ہے۔ اس کی خصوصیات کی تصویر کشی لفظوں میں بیان کرنا مشکل ہے۔ اس کو آنکھوں سے دیکھ کر ہی سمجھا جا سکتا ہے۔ عشاء کی نماز کے بعد طلبہ نے مصافحہ کیا۔ اکثر ایسے موقع پر لوگ بھیڑ کی صورت میں مصافحہ کرتے ہیں۔ مگر یہاں یہ ہوا کہ طلبہ نے مسجد کی دیوار سے مل کر قطار بنا لی اور ایک ایک طالب علم آگے بڑھ کر مصافحہ کرتا رہا۔ اس طرح تقریباً دو سو طلبہ نے مصافحہ کیا۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page