مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 192
By Maulana Wahiduddin Khan
مدرسہ کے قریب سے ایک اہم سڑک گزرتی ہے۔ مگر اس سڑک کو مدرسہ سے جوڑنے کے لیے درمیان میں پختہ راستہ نہیں تھا۔ 1984 میں مدرسہ میں ایک بڑا جلسہ ہو رہا تھا۔ منتظمین نے ریاستی حکومت کے نام ایک درخواست بھیجی کہ ہمارے یہاں ایک بڑا اندہبی جلسہ ہونے والا ہے۔ لوگ دور دور سے اس میں شرکت کے لیے آئیں گے۔ مگر عام سڑک اور مدرسہ کے درمیان اچھا راستہ نہیں ہے۔ اس کے بعد حکومت کی طرف سے مدرسہ تک ایک پختہ سڑک بنا دی گئی۔ میں نے چل کر دیکھا تو وہ 280 قدم لمبی تھی۔ مدرسہ کے مہمان خانہ میں بیٹھا ہوا میں چائے پی رہا تھا۔ اتفاق سے میرا ہاتھ ہلا اور چائے میری چادر پر گر گئی۔ مولانا کبیر الدین فاران مظاہری نے فوراً میری چادر لے کر ایک طالب علم کو دیا کہ اسے لے جا کر ابھی دھو دو۔ یہ رات کا وقت تھا۔ میں نے سوچا کہ اس وقت تو چادر سوکھے گی نہیں۔ کل اس کو دھوپ میں ڈالنا ہوگا۔ پھر غالباً دوپہر تک وہ سوکھ کر مجھے ملے گی۔ میں اسی خیال میں تھا کہ 20 منٹ کے بعد طالب علم نے صاف چادر لا کر میرے پاس رکھ دی۔ اتنی دیر میں وہ دھوئ گئی، سکھائی گئی اور پریس کر کے تہ کی گئی اور پھر میرے پاس واپس آگئی۔ اس کا راز یہ تھا کہ یہاں مدرسہ میں جدید طرز کی واشنگ مشین موجود ہے جو دھونے کے بعد فوراً سکھانے کا کام بھی کر دیتی ہے۔ یہ ایک علامتی واقعہ ہے جس سے مدرسہ کی حالت کا اندازہ ہوتا ہے۔ نصاب کے اعتبار سے یہ ایک "قدیم طرز" کا مدرسہ ہے۔ مگر نظام اور تعمیرات کے اعتبار سے وہ بالکل جدید اور اپٹوڈیٹ ہے۔ اس کو دیکھ کر میں نے کہا کہ آپ نے تو اپنے مدرسہ کو ایک ماڈرن مدرسہ بنا دیا۔ اسی طرح مدرسہ میں آٹا پیسنے کی مشین ہے۔ مدرسہ کی ضرورت کا آٹا خود اپنی مشین میں پیسا جاتا ہے، وغیرہ۔ ایک بار ایک مسلمان تاجر مدرسہ قادریہ میں آئے۔ انہوں نے طلبہ کو دیکھ کر کہا آپ کے طلبہ کے کپڑے صاف نہیں ہیں۔ پھر یہی تبصرہ انہوں نے تمام مدرس کے بارے میں کیا۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ آپ لوگ تنقید تو کر رہے ہیں مگر آپ اس کا حل نہیں

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader