مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 193
By Maulana Wahiduddin Khan
بتاتے ۔ انہوں نے کہا کہ حل کیا ہے۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ حل بہت سادہ ہے ۔ آپ پیسہ دیجیے ہم واشنگ مشین منگاتے ہیں ۔ اور پھر آپ دیکھیں گے کہ ہمارے مدرسہ کے بچے کتنے صاف ستھرے ہیں۔ مذکورہ تاجر کو یہ بات اثر کر گئی۔ وہ فوراً اس پر راضی ہو گئے۔ چنانچہ دہلی جا کر انہوں نے مدرسہ کے لیے گودریج کی واشنگ مشین بھجوا دی جو اس وقت سب سے اچھی سمجھی جاتی تھی۔ یہ ایک صحت مند مثال ہے۔ مدرسہ والے با عزت انداز میں تعاون مانگیں اور اصحاب خیر بھی با عزت انداز میں اپنا مالی تعاون دیں تو دینی اداروں کا کام نہایت حسن و خوبی کے ساتھ چلنے لگے گا۔ عشاء کی نماز کے بعد مدرسہ کے دفتر میں نشست ہوئی ۔ اساتذہ بھی آگئے ۔ دیر تک ملی موضوعات پر گفتگو ہوتی رہی ۔ میں نے مولانا کبیر الدین مظاہری سے کہا کہ آپ نے اپنے مدرسہ کو جدید انداز میں بنایا ہے۔ اب یہاں ایک اور روایت قائم کیجیے۔ میں نے کہا کہ باہر سے جب کوئی شخص کسی مدرسہ میں آتا ہے تو عام طور پر یہ ہوتا ہے کہ گفتگو یک طرفہ انداز میں ہوتی ہے۔ یعنی آنے والا بولتا ہے، اور مدرسہ کے لوگ صرف سامع بنے ہوئے بیٹھے رہتے ہیں۔ میں چاہتا ہوں کہ یہاں تبادلۂ خیال کے انداز میں گفتگو ہو۔ انہوں نے کہا کہ ہمارے یہاں یہ روایت پہلے سے قائم ہے۔ چنانچہ اسی انداز میں دیر تک گفتگو ہوتی رہی۔ مدرسہ کا دفتر دیکھ کر خوشی ہوئی ۔ یہ بالکل جدید طرز کا ایک دفتر تھا۔ ایک خوبصورت میز کے گرد خوبصورت کرسیاں بچھی ہوئی تھیں ۔ میز پر کیکلیوٹر، ٹیلی فون، اور دوسری جدید نوعیت کی دفتری چیزیں رکھی ہوئی تھیں۔ مولانا کبیر الدین مظاہری برابر ٹیلی فون پر رابطہ قائم کر کے لوگوں کو میری آمد کی اطلاع دیتے رہے اور پروگرام مرتب کرتے رہے۔ کیونکہ میں اچانک یہاں آیا تھا، اور اب ٹیلی فون ہی کے ذریعہ پروگرام کو منظم کیا جا سکتا تھا۔ ہما چل پردیش کا علاقہ 1947 میں مکمل طور پر فرقہ پرستی کی زد میں تھا جو ملک کی تقسیم کے نتیجہ میں پیدا ہوئی تھی۔ چنانچہ مدرسہ قادریہ کے ساتھ بھی بار بار یہاں اشتعال انگیزی اور فساد کے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader