مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 194
By Maulana Wahiduddin Khan
مسائل پیدا ہوئے۔ مگر مولانا کبیر الدین صاحب نے حکمت اور تحمّل کے ذریعہ ہر موقع پر کامیابی حاصل کی۔ انہوں نے چنگاری کو ہوا دینے کے بجائے اس کو پہلے مرحلہ ہی میں بجھا دیا۔ یہاں کی کئی چیزیں دوسرے مدارس کے لیے قابلِ تقلید ہیں۔ مثلاً یہاں کا اصول ہے کہ دو استاد اگر آپس میں جھگڑیں تو دونوں ہی کو باعزت طور پر رخصت کر دیا جاتا ہے۔ اس بنا پر یہاں ایسا ہے کہ دو استادوں کے درمیان اگر نزاع پیدا ہو تو وہ آپ ہی آپ اس کو ختم کر لیتے ہیں۔ کیونکہ وہ جانتے ہیں کہ مسئلہ نظامت تک پہنچا تو دونوں کو علیحدہ کر دیا جائیگا۔ طلبہ کو یہ اجازت نہیں کہ وہ اساتذہ کی ذاتی خدمت کریں۔ مثلاً کوئی طالب علم کسی استاذ کا سر اور پاؤں نہیں دبا سکتا اور نہ ہی سر میں تیل لگا سکتا ہے۔ اسی قاعدہ کو برقرار رکھنے کے لیے یہاں جوان عمر اساتذہ رکھے گئے ہیں کیونکہ اس قسم کے رواج اکثر انہیں مدارس میں پائے جاتے ہیں جہاں بوڑھے اور زیادہ عمر کے اساتذہ ہوں۔ تاہم اسی کے ساتھ طلبہ کو یہ تاکیدی حکم ہے کہ وہ ہرگز اپنے استاذ کی نافرمانی نہ کریں۔ 18 نومبر کی صبح کو سوا پانچ بجے مسجد سے اذان کی آواز آئی۔ یہ لاؤڈ اسپیکر کے بغیر تھی۔ یہاں چاروں طرف فطرت کا ماحول ہے۔ اس ماحول میں اذان کی دھیمی آواز بہت اثر انگیز تھی۔ ایسا محسوس ہوا جیسے موذن نے فطرت کے دھیمے لہجہ میں ذکرِ خداوندی کا نغمہ بکھیر دیا ہو۔ فجر کی نماز میں امام صاحب نے سورۃ الجمعۃ کی تلاوت کی۔ نماز کے بعد میں نے ایک صاحب سے کہا کہ دیکھیے قرآن میں ہے کہ زمین و آسمان کی تمام چیزیں خدا کی تسبیح کر رہی ہیں (62:1) مگر آپ جانتے ہیں کہ یہ تسبیح سنائی نہیں دیتی۔ گویا فطرت کی زبان خاموشی کی زبان ہے۔ شور کی زبان فطرت کی زبان نہیں۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے یہاں کی مسجد میں لاؤڈ اسپیکر نہیں لگایا ہے۔ اس کا علاقہ پر بہت اچھا اثر پڑا ہے۔ یہاں کے ہندو کہتے ہیں کہ دیکھو، یہ کتنا اچھا مولانا ہے۔ وہ شور والا کام نہیں کرتا۔ وہ خاموشی کے ساتھ اپنے دھرم کی سیوا کر رہا ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader