Urdu book · علما اور دینی مدارس

مدرسہ قادریہ کا سفر

Urdu book, p. 195

By Maulana Wahiduddin Khan

میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے کہا کہ آپ جو کر رہے ہیں وہ عین اسلامی طریقہ ہے۔ مسجدوں میں لاؤڈ اسپیکر کا استعمال تو مجھے ایک بدعت معلوم ہوتا ہے۔ حدیث میں فتنہ کے زمانہ کی علامتوں میں سے ایک علامت یہ بتائی گئی ہے کہ اس وقت مسجدوں میں آوازیں بلند ہوں گی :إِذَا تَرَفَعَتِ الْأَصْوَاتُ فِي الْمَسَاجِد (سنن الترمذی، حدیث نمبر 2357 )۔ فجر کی نماز ختم ہوئی تو ایک بچہ نے کھڑے ہو کر مختلف اوقات کی دعائیں بلند آواز سے بتائیں۔ مثلاً کھانے کے بعد یہ دعا پڑھیں، سونے کے وقت یہ دعا پڑھیں، وغیرہ۔ نماز کے بعد طالب علموں کے اٹھ کر جانے کا انداز بھی نہایت منظم تھا۔ طالب علم اچانک بھیڑ کی صورت میں نہیں اٹھے۔ میں نے دیکھا کہ لمبی صف کے دائیں طرف سے باری باری صرف ایک طالب علم اٹھتا اور خاموشی سے باہر چلا جاتا۔ اس طرح تمام طلبہ قطار بنا کر باہر نکلے۔ مسجد کے گیٹ کے باہر آتے ہی تمام طلبہ نے دوڑ لگانا شروع کی۔ دوڑ ایک استاد کی نگرانی میں ہوئی۔ میں نے سوچا کہ یہ منظر اگر ٹی وی پر دکھا دیا جائے تو لوگوں کو حقیقت معلوم ہو۔ کچھ غیر مسلم حضرات غلط طور پر یہ سمجھتے ہیں کہ مسجد اور مدرسہ میں ہتھیاروں کی ٹریننگ ہوتی ہے۔ انہیں برعکس طور پر نظر آئے گا کہ مسجد میں آداب حیات سکھائے جاتے ہیں۔ یہاں طلبہ کو جسمانی ورزش کرائی جاتی ہے۔ یہاں ایک ایک طالب علم کو اس قابل بنایا جاتا ہے کہ وہ شہری تقاضوں کو نبھائے۔ وہ ڈسپلن والی زندگی گزار سکے۔ وہ یہاں تربیت پا کر ایک اچھا انسان بن جائے۔ نماز اوّل وقت میں ہوئی۔ چنانچہ مسجد کے باہر ابھی زیادہ اجالا نہیں ہوا تھا۔ اب پروگرام کے مطابق تمام طلبہ سڑک پر پہنچے اور کچھ دیر تک دوڑ لگاتے رہے۔ یہ یہاں کا روزانہ کا معمول ہے۔ واپس آ کر تمام طلبہ تلاوت قرآن میں مشغول ہو گئے۔ یہ مدرسہ 36 بیگہہ زمین میں واقع ہے۔ وسیع رقبہ میں ایک شاندار اسلامی دنیا ابھر رہی ہے۔ مگر ایک صاحب کے الفاظ میں ”کبھی کوئی ہندو نہیں بولا۔ کبھی کوئی ہندو ڈنڈالے کر نہیں آیا۔ اتنا بڑا کام نہایت پرسکون طور پر یہاں انجام پا رہا ہے“۔ میں نے کہا کہ یہ سب حکمت کا نتیجہ ہے جس کو آپ لوگوں نے خدا کے فضل سے اختیار کیا ہے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page