مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 196
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک استاذ نے کہا کہ ہم نے دیکھا ہے کہ سیکولر لوگ سیاسی پلیٹ فارم پر آپس میں لڑتے ہیں اور پھر دونوں ایک ساتھ بیٹھ کر چائے پیتے ہیں۔ مگر علما کا یہ حال ہے کہ دو عالم اگر ایک بار کسی بات پر لڑ گئے تو دوبارہ وہ کبھی نہیں ملیں گے۔ انہوں نے بتایا کہ ایک عالم سے میں نے یہ بات کہی تو انہوں نے جواب دیا کہ سیکولر لوگ مکار ہوتے ہیں۔ اس لیے ایسا کرتے ہیں۔ مگر علما تو مخلص لوگ ہیں۔ جب میں اپنے کو حق پر سمجھوں تو میں کس طرح دوسرے سے مل سکتا ہوں۔ استاذ نے کہا کہ آپ کا یہ جواب درست نہیں۔ اس لیے کہ حدیث میں آیا ہے کہ دو مسلمانوں کے درمیان تین دن سے زیادہ ترک کلام اور ترک تعلق شریعت میں جائز نہیں: لَا يَحِلُّ لِمُسْلِمٍ أَنْ يَهْجُرَ أَخَاهُ فَوْقَ ثَلَاثٍ (صحیح البخاری، حدیث نمبر 6237)۔ اس کا مذکورہ عالم کے پاس کوئی جواب نہ تھا۔ اپنے مخالف کو غلط ثابت کرنے کے لیے وہ اسلام کے اصولوں کا حوالہ دے رہے تھے، مگر خود اپنے اوپر اسلام کے اصول کو منطبق کرنے پر وہ راضی نہ ہوئے۔ مدرسہ سے ملحق ایک زمین تھی ۔ اس پر عملاً مدرسہ کا قبضہ تھا۔ تاہم کاغذی اعتبار سے وہ کچھ ہندوؤں کی تھی۔ چونکہ نئے قانون کے مطابق قابض ہی مالک ہوتا ہے ۔ اس لیے وہ لوگ سمجھتے تھے کہ یہ زمین اب ہم کو نہیں ملے گی۔ ایک بار زمین کے مالکان یہاں آئے۔ انہوں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے کہا کہ یہ زمین جو آپ کے قبضہ میں ہے، اس کے اصل مالک ہم لوگ ہیں۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ اسلام میں قبضہ کوئی چیز نہیں۔ زمین کا جو مالک ہے وہی اس کا مالک رہے گا۔ مولانا کبیر الدین صاحب کی زبان سے یہ غیر متوقع بات سن کر وہ لوگ بہت متاثر ہوئے۔ انہوں نے کہا کہ ہم اس زمین کو بیچنا چاہتے ہیں۔ مگر آپ کو خریداری کا پہلا حق ہوگا۔ مزید یہ کہ انہوں نے مارکیٹ ریٹ سے بہت کم قیمت میں اس زمین کو مدرسہ کے لیے دینا منظور کر لیا۔ حالانکہ مولانا کبیر الدین صاحب نے ان سے اس سلسلہ میں کچھ نہیں کہا تھا۔ بہت سے ہندی اخبار والے مدرسہ کو دیکھنے کے لیے آئے۔ انہوں نے اس کے بارے میں اچھی رپورٹیں شائع کیں ۔ ایک ہندی اخبار نے لکھا کہ یہ ہماچل پردیش کا شانتی نکیتن ہے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader