مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 197
By Maulana Wahiduddin Khan
چندی گڑھ کے ہندی روزنامہ دینگ ٹریبیون (13 اگست 1994) میں ایک رپورٹ مسلم مدارس کے بارے میں چھپی۔ اس کی سرخی تھی ۔ " بھارت کے مدرسوں میں ہو رہی ہے کٹر پنتھی کی پڑھائی "۔ اسی طرح پنجاب کیسری (دسمبر 1994) میں رپورٹ چھپی جس کی سرخی یہ تھی: " ہماچل میں چلائے جا رہے مدرسے شکنجہ پر سار کے بجائے آئنک واد کا پر شکن دے رہے ہیں "۔ اسی طرح انڈین ایکسپریس کی چندی گڑھ اشاعت (22 اگست 1994) میں رپورٹ چھپی جس کی سرخی یہ تھی: ISI Bid to Recruit HP Youths Via Madrasa. اس قسم کی خبروں کے ذریعہ علاقہ میں دینی مدارس کے خلاف پروپیگنڈہ بڑھا۔ اس کا خاص نشانہ مسر والا کا مدرسہ قادر یہ تھا۔ مگر یہ پروپیگنڈہ زحمت میں رحمت ثابت ہوا۔ پریس اور انتظامیہ دونوں تحقیق کے لیے متحرک ہو گئے ۔ اور آخری رپورٹ عین مدرسہ کے حق میں نکلی ۔ اس سلسلہ میں بہت سی موافق باتیں پریس میں آئیں جن سے فضا مزید اضافہ کے ساتھ مدارس کے حق میں ہو گئی ۔ مثلاً جن ستا ( 11 جون ) میں رپورٹ چھپی۔ اس کا عنوان تھا : بھائی چارہ کا پرتیک ہے مسر والا ( کامدرسہ ) ۔ حتی کہ ہماچل کے چیف منسٹر راجہ ویر بھدر سنگھ نے اسٹیٹ اسمبلی میں اس کی تردید کی ۔ دینک ٹریبیون ( 20 دسمبر ) میں یہ رپورٹ اس سرخی کے ساتھ چھپی : مدرسوں میں بھارت و رو دھگتی ودھیاں نہیں۔ اخبار والوں کی کئی پارٹیاں مدرسہ قادریہ میں آئیں ۔ اور ہر چیز کو دیکھنے کے بعد اپنے اخباروں میں یہ رپورٹ چھاپی کہ ہم نے خود جا کر تحقیق کی اور تمام مخالفانہ پروپیگنڈوں کو غلط پایا ۔ ان رپورٹوں کو پڑھنے کے بعد میں نے مدرسہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ یہ آپ کے حق میں رفع ذکر کا معاملہ تھا۔ اور جب آدمی حق پر ہو تو ہر رفع ذکر عصر میںیسر کا سبب بن جاتا ہے۔ مدرسہ قادریہ مسروالا ہماچل پردیش ایک ایسے علاقہ میں واقع ہے جس کے اطراف میں غیر مسلموں کی بڑی آبادی ہے ۔ مدرسہ والوں کے ان حضرات سے گہرے مراسم کی وجہ سے ان

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader