Urdu book · علما اور دینی مدارس

مدرسہ قادریہ کا سفر

Urdu book, p. 198

By Maulana Wahiduddin Khan

حضرات کی برابر یہاں آمد و رفت رہتی ہے، حتیٰ کہ خوشی اور غمی میں بھی وہ مدرسہ والوں کو شریک کرتے ہیں۔ اور اپنے نجی مسائل میں یہاں کے ذمہ داروں سے مشورہ کرتے ہیں۔ نیز یہاں آ کر اسلام کی معلومات، اسلامی اخلاق اور مدرسہ کی حب الوطنی اور سیاست سے دوری اور علما کی سادگی کو دیکھ کر کہتے ہیں کہ ایسے اسلامی ادارے ملک کے گوشہ گوشہ میں ہونے چاہئیں۔ کیونکہ یہ ادارے امن و محبت کا پیغام ہوتے ہیں، حتیٰ کہ وہ غیر مسلم جن کو عام طور پر کٹر پنتی کہا جاتا ہے وہ بھی یہاں کے ماحول سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہتے۔ ان آنے والوں میں عام سرکاری ملازم سے لے کر وزیرِ اعلی ہماچل پردیش جیسے افراد بھی شامل ہیں۔ افغانستان کے طالبان میں سے بعض افراد نے ایک انٹرویو کے دوران یہ کہا تھا کہ ہماری تعلیم دیوبند کے مدرسہ میں ہوئی ہے۔ اس کو ہندوستان کے کچھ ہندی اخباروں میں اس طرح چھاپا گیا کہ طالبان نے جنگ جوئی کا سبق دیوبند کے مدرسہ میں رہ کر حاصل کیا ہے۔ اس کو مزید عام کر کے ہندی پریس میں یہ کہا گیا کہ ہندوستان کے اسلامی ادارے اگر واداد اور علیحدگی پسندی کی تعلیم دیتے ہیں۔ اس لیے ضروری ہے کہ ان مدرسوں کا بھارتیہ کرن کیا جائے۔ اس کے بغیر ہمارے ملک میں شانتی اور اتحاد قائم نہیں ہوسکتا۔ یہ بات بلاشبہ بالکل بے بنیاد ہے۔ میں خود مدرسہ ہی کا ایک پروڈکٹ ہوں اور جانتا ہوں کہ ان مدرسوں کا کوئی تعلق اگر واد یا علیحدگی پسندی سے نہیں ۔ یہ مدرسے سادہ طور پر عربی زبان اور دین اسلام کی تعلیم دیتے ہیں۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ افغانی نوجوانوں نے دیوبند کے مدرسہ میں تعلیم پائی ہے مگر یہ تعلیم سادہ طور پر دین کی تھی، نہ کہ جنگ جوئی کی۔ پنڈت جواہر لال نہرو اور دوسرے کئی نیشنل لیڈروں کی تعلیم لندن میں ہوئی ۔ ہندوستان واپس آنے کے بعد وہ انگریزوں کے خلاف جنگ آزادی میں شریک ہو گئے۔ اب کیا یہ کہنا صحیح ہوگا کہ ان لیڈروں کو لندن کے اسکولوں میں انگریزوں کے خلاف لڑنے کی تعلیم دی گئی تھی۔ 1947 سے پہلے جو لوگ آزادی کی تحریک میں شریک ہوئے اور ”انگریز و بھارت

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page