مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 199
By Maulana Wahiduddin Khan
چھوڑو“، کا نعرہ لگایا وہ تقریباً سب ہندوستان کے ان انگریزی اسکولوں کے پڑھے ہوئے تھے جو برٹش دور میں قائم کیے گئے۔ ان کی بابت لارڈ میکالے نے کہا تھا کہ ان انگریزی اسکولوں کا مقصد یہ ہے کہ یہاں ایسی نسل پیدا ہو جو پیدائش کے اعتبار سے ہندوستانی ہو اور اپنی سوچ کے اعتبار سے انگریز۔ مگر انہیں انگریزی اسکولوں میں پڑھ کر لوگ انگریز کے خلاف جنگ میں شامل ہو گئے۔ اس کا مطلب یہ نہیں تھا کہ اس وقت انگریزی اسکولوں میں انگریزی حکومت کے خلاف لڑائی کی تعلیم دی جاتی تھی۔ یہی معاملہ افغانیوں کا ہے۔ یہ صحیح ہے کہ کچھ افغانی نوجوانوں نے ہندوستان کے دینی مدرسہ میں داخلہ لے کر یہاں تعلیم حاصل کی۔ اس کے بعد اپنے وطن جا کر جب وہ وہاں کی عسکری تحریک میں شامل ہو گئے تو اس کا کوئی تعلق ہندوستان کے دینی مدرسہ سے نہ تھا۔ جنگ جوئی کا سبق انہوں نے خود اپنے ملک سے لیا۔ اس کا کوئی تعلق ان کی بیرونی تعلیم سے نہیں۔ کچھ عرصہ پہلے یہاں کے مدرسہ میں حیدر آباد کا ایک طالب علم تھا۔ وہ جوڈو کراٹے سیکھے ہوئے تھا۔ مدرسہ کے قریب ایک نہر ہے۔ وہ اکثر اسی نہر پر جایا کرتا تھا۔ ایک روز وہاں ایک ہندو لڑکا تھا۔ وہ مذکورہ طالب علم کے پاس کھڑا ہو کر بار بار نہر میں کودتا تھا۔ اس کی وجہ سے طالب علم پر پانی کے چھینٹے آتے تھے۔ طالب علم نے منع کیا، وہ نہیں مانا تو طالب علم نے اس ہندو لڑکے کو مار دیا۔ وہ روتا ہوا گھر گیا۔ اس کے بعد اس کی ماں آئی اور طالب علم کو ڈانٹ ڈپٹ کرنے لگی۔ طالب علم نے اس ہندو عورت پر جوڈو کراٹے کا فن استعمال کیا۔ اس سے ہندو آبادی میں اشتعال پیدا ہو گیا۔ وہ لوگ مدرسہ پر آئے۔ مولانا کبیر الدین صاحب نے کہا کہ یہ طالب علم کی غلطی ہے اور سب کے سامنے طالب علم سے معافی منگوائی۔ اس کے بعد معاملہ ٹھنڈا ہو گیا۔ تاہم ایسے سنگین معاملہ میں اتنی آسانی سے ہندوؤں کے ٹھنڈا پڑ جانے کا ایک پس منظر بھی تھا۔ اس سے پہلے مدرسہ کے طلبہ نے ہندو آبادی پر اچھا اثر ڈالا تھا۔ مدرسہ سے ملے

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader