Urdu book · علما اور دینی مدارس

مدرسہ قادریہ کا سفر

Urdu book, p. 200

By Maulana Wahiduddin Khan

ہوئے ان لوگوں کے کھیت ہیں۔ مگر طلبہ چونکہ مدرسہ کے تحت ڈسپلن میں رہتے ہیں۔ انہوں نے کبھی ان ہندو کسانوں کو شکایت کا موقع نہیں دیا۔ ایک بار گاؤں میں آگ لگ گئی تو تمام طلبہ دوڑ کر وہاں گئے اور ہندوؤں کے ساتھ مل کر آگ بجھائی۔ اس پیشگی اخلاقی اثر کی وجہ سے ہندو ز یاد ہ مشتعل نہیں ہوئے۔ ان میں سے کچھ لوگوں نے خود ہی یہ کہنا شروع کر دیا کہ مدرسہ والے غلط لوگ نہیں ہیں۔ اس میں غلطی دونوں کی ہوگی۔ میں نے کہا کہ اس سنگین معاملہ کو فساد تک پہنچنے سے جن چیز نے روکا وہ ”جوڑ و کرائے“ کافن نہیں تھا۔ بلکہ اخلاق اور حسن کردار تھا۔ ایک استاد کے الفاظ میں ایسا اس لیے ہوا کہ ”ہم نے پہلے سے یہ ثابت کر رکھا تھا کہ ہم آپ کے ہمدرد ہیں۔ ہم آپ کے غم میں شریک ہیں“۔ مولانا کبیر الدین صاحب اس علاقہ میں آئے تو پہلے وہ رائے پور میں مقیم ہوئے۔ وہاں آرایس ایس کا ایک آدمی تھا جس کا نام سری نواس بنسل تھا۔ عام مسلمان اس سے نالاں تھے۔ مگر وہ مولانا کبیر الدین صاحب کا معتقد ہو گیا۔ حتیٰ کہ جب وہ مسر والا آگئے تو وہ ان سے ملنے کے لیے یہاں آنے لگا۔ وہ مولانا کے گھر کا کھانا نہیں کھاتا تھا بلکہ گاؤں میں جا کر کسی ہندو کے یہاں کھاتا تھا۔ مگر مولانا کبیر الدین صاحب سے اس کے تعلقات بہت اچھے تھے۔ گفتگو سے میں نے اندازہ لگایا کہ سری نواس بنسل کے لیے مولانا کبیر الدین صاحب کی سادگی، اصول پسندی، وقت کی پابندی اور کسی سے نفرت نہ کرنے کا مزاج باعث کشش ثابت ہوا۔ 18 نومبر کو ناشتہ کرتے ہوئے میں نے مولانا کبیر الدین صاحب سے پوچھا کوئی ہندو اپنے بچہ کو مدرسہ میں داخل کرنا چاہے تو آپ داخل کریں گے“ انہوں نے فوراً کہا کہ ہاں۔ پھر بولے، مگر دار الا اقامہ میں نہیں۔ میں نے پوچھا کہ کیوں۔ انہوں نے کہا کہ اس کو یہاں تنگی ہوگی۔ میں نے دوبارہ پوچھا کہ اگر وہ تنگی کو برداشت کرے تو، انہوں نے کہا پھر تو کوئی ہرج نہیں۔ ہم اس کو دار الا اقامہ میں بھی رکھ لیں گے۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page