Urdu book · علما اور دینی مدارس

مدرسہ قادریہ کا سفر

Urdu book, p. 201

By Maulana Wahiduddin Khan

عام طور پر مدارس کا یہ مزاج نہیں ہے۔ وہ سمجھتے ہیں کہ اگر مدرسہ میں کوئی ہندو بچہ ہوگا تو وہ مدرسہ کے ماحول کو خراب کرے گا۔ حالانکہ یہ بالکل بے بنیاد اندیشہ ہے۔ یہ قانون فطرت کے خلاف ہے۔ سیکڑوں اور ہزاروں لوگوں کے ماحول میں ایک غیر مسلم بچہ ہو تو وہ خود متاثر ہوگا نہ یہ کہ وہ دوسروں کو متاثر کر ڈالے۔ اس کا عملی ثبوت یہ ہے کہ 1947 سے پہلے کے دور میں اسی ملک میں مسلم مدارس میں ہندو بچے بھی پڑھتے تھے، اور اس کا نتیجہ اسلام کے لیے بہتر صورت میں نکلتا تھا۔ 1992 کے آخر میں فرقہ پرست عناصر نے یہ اعلان کیا کہ 6 دسمبر 1992 کو وہ بڑی تعداد میں ایودھیا میں داخل ہوں گے اور بابری مسجد کو توڑ کر وہاں رام مندر بنائیں گے۔ اس کے بعد ملک میں جگہ جگہ تناؤ پیدا ہوگیا۔ اسی اثناء میں نومبر 1992 میں پونٹا صاحب (مہاچل پر دیش) کے پاس ایک گاؤں میں ایک اشتعال انگیز واقعہ ہوا۔ کچھ شرپسندوں نے ایک مسلمان کی زمین پر قبضہ کرکے رات کے وقت وہاں ایک مندر کی تعمیر شروع کردی۔ دیواریں کھڑی ہو چکی تھیں، ابھی چھت نہیں بنی تھی کہ وہاں مسلمان آگئے اور فرقہ وارانہ نزاع کی صورت پیدا ہوگئی۔ اس کے بعد پولیس کیس بن کر معاملہ عدالت میں پہونچا۔ عدالت نے تحقیقات کے بعد تعمیر کو غیر قانونی قرار دے دیا اور حکم دیا کہ اس کو توڑ کر اس کی سابقہ حالت بحال کردی جائے۔ اس کے بعد گاؤں میں ایک میٹنگ ہوئی۔ اس میں پولیس افسر، مقامی ہندو، علاقہ کے ایم ایل اے فتح سنگھ (بی جے پی) وغیرہ شامل تھے۔ مولانا کبیر الدین فاران مظاہری بھی اس میٹنگ میں علاقہ کے عالم کی حیثیت سے موجود تھے۔ لوگ کسی فیصلہ پر نہیں پہنچ رہے تھے۔ کیوں کہ پولیس اگر مندر کو گرا دے تب بھی اندیشہ تھا کہ نفرت اور کشیدگی بڑھے گی اور نئے مسائل کھڑے ہو جائیں گے جس کو روکنے کے لیے کوئی عدالت یا پولیس یہاں موجود نہ ہوگی۔ اس وقت مولانا کبیر الدین مظاہری نے جرات مندانہ اخلاق کا ثبوت دیا۔ انہوں نے کہا

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page