مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 202
By Maulana Wahiduddin Khan
کہ یہاں پر ایک شبھ کام اشبھ انداز میں ہوا ہے۔ مگر اب چونکہ یہاں مندر کی ایک صورت کھڑی ہو گئی ہے تو لوگ اس کو مندر کے نام سے جانتے ہیں۔ اور اگر اس کو توڑا جاتا ہے تو عوام میں یہ شور ہوگا کہ گاؤں کا ایک مندر توڑ دیا گیا۔ اس سے دونوں فرقوں میں نفرتیں پیدا ہوں گی اور مسئلہ پھر بھی نئی صورت میں باقی رہے گا۔ اس لیے اب ایسا کیا جائے کہ ہندو لوگ اپنا مندر تو وہیں پورا کر لیں، البتہ اس کے بجائے مالک زمین کو ایک اور جگہ اس کے معاوضہ میں دے دی جائے۔ اس پر سب لوگ متفق ہو گئے۔ مسلمان مالک کو دوسری زیادہ بہتر زمین اس کے معاوضہ میں دے دی گئی۔ مندر وہیں قائم رہا۔ مگر اس فیصلہ کا زبردست فائدہ یہ ہوا کہ مذکورہ ہندوؤں کے سر شرم سے جھک گئے۔ اور مسلمانوں کو مستقل طور پر اخلاقی برتری حاصل ہوگئی۔ میں اپنے سر پر سفید پگڑی باندھتا ہوں۔ اس کے اندر ٹوپی نہیں ہوتی۔ ایک بزرگ نے اس کو دیکھ کر کہا کہ آپ کا عمامہ سنت کے مطابق نہیں۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ اس طرح عمامہ باندھتے تھے کہ اس کے اندر ٹوپی ہوتی تھی اور آپ کے عمامہ کے نیچے ٹوپی نہیں۔ میں نے کہا کہ اس طرح کے معاملات میں ہمیشہ سنت اجمالی مطلوب ہوتی ہے، نہ کہ سنت کلی۔ اور یہ عین فطرت کا تقاضا ہے۔ اس طرح کے معاملات میں اگر کامل پیروی کو ضروری قرار دیا جائے تو جو لوگ ٹوپی کے اوپر عمامہ باندھتے ہیں ان کا معاملہ بھی مسنون عمامہ نہیں رہے گا۔ کیونکہ رسول اللہ ﷺ کے عمامہ کا کپڑا ہاتھ کا بنا ہوا ہوتا تھا، جب کہ آج کل کے لوگوں کی ٹوپی اور عمامہ دونوں مل کے کپڑے سے تیار کیے جاتے ہیں۔ مدرسہ کے ایک استاذ مولانا انصار الحق مظاہری نے بتایا کہ جب وہ چودہ سال کے طالب علم تھے، مدرسہ کی رسید لے کر وہ چندہ وصول کرنے گئے۔ ایک حکیم صاحب کے یہاں پہونچے جو باقاعدہ عالم بھی تھے۔ انہوں نے بہت سخت انداز اختیار کیا۔ انہوں نے کہا کہ میں کسی مدرسہ والے کو چندہ نہیں دیتا۔ انصار الحق صاحب نے پوچھا کہ کیوں۔ انہوں نے کہا کہ یہ لوگ کچھ نہیں جانتے۔ انہوں نے دوبارہ پوچھا کہ کیا آپ نے تجربہ کیا ہے یا قیاسی طور پر ایسا کہہ رہے ہیں۔ حکیم صاحب نے اقرار کیا کہ انہوں نے اس سلسلہ میں کوئی ذاتی تجربہ نہیں کیا۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader