مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 203
By Maulana Wahiduddin Khan
اس کے بعد انہوں نے اپنی الماری سے الجاحظ کی کتاب "الحیوان" نکالی۔ یہ غیر معرب تھی ۔ انہوں نے کہا کہ اس کتاب کو آپ نے دیکھا ہے۔ انصاری الحق صاحب جو اس وقت کم عمر تھے ، انہوں نے کہا کہ آپ نے یہ کیوں کہا کہ دیکھا ہے۔ آپ کو یہ پوچھنا چاہیے کہ کیا اس کو پڑھا ہے۔ اس کے بعد انہوں نے کہا کہ اچھا بتائیے ، کیا آپ نے اس کو پڑھا ہے۔ انصاری الحق صاحب نے کہا کہ میں نے اس کو پانچ بار پڑھا ہے۔ اور پھر اس غیر معرب نسخہ کو روانی کے ساتھ پڑھ کر سنانے لگے۔ اس طرح کے کتنے ذہین نوجوان ہمارے مدارس سے پڑھ کر نکلتے ہیں۔ مگر دور جدید کی زبان نہ جاننے کی وجہ سے وہ سماج میں کوئی بڑا کارنامہ انجام نہیں دے پاتے۔ یہ لوگ اگر دینی تعلیم کے ساتھ انگریزی زبان بھی سیکھ لیں تو ان کی صلاحیتیں قوم کے لیے کئی گنا زیادہ مفید بن جائیں گی۔ موجودہ زمانہ میں اسلام کی ضرورتوں میں سے ایک اہم ضرورت یہ ہے کہ ہمارے درمیان بڑی تعداد میں ایسے اہل علم ہوں جو بیک وقت عربی اور انگریزی دونوں زبانوں میں اسلام کی ترجمانی کرنے کی صلاحیت رکھتے ہوں۔ مگر ایسے افراد اتنے کم ہیں کہ وہ الشاذ کا کے درجہ میں that which is rare is treated as non-existent( لعدوم رکھے جانے کے قابل ہیں۔ میں نے مدرسہ قادریہ کے ذمہ داروں کے سامنے یہ تجویز رکھی کہ آپ لوگ اپنے موجودہ نصاب کو چلاتے ہوئے ایک نئے کلاس کا اضافہ کریں۔ اس کو آپ لیسنگویج کلاس یا لینگویج کورس کہہ سکتے ہیں۔ اس میں صرف فارغ التحصیل افراد کو لیا جائے۔ عربی مدارس کے فارغین کو انگریزی زبان پڑھائی جائے اور انگریزی ادارہ کے تعلیم یافتہ افراد کو عربی زبان سکھائی جائے۔ فی الحال اس کی تعداد صرف دس ہو۔ پانچ عربی داں اور پانچ انگریزی داں ۔ ان کو پڑھانے کے لیے دو معلم مقرر کیے جائیں۔ ایک عربی معلم اور ایک انگریزی معلم۔ مدرسہ کے ذمہ داروں نے اس تجویز سے اتفاق کیا۔ تاہم اس سلسلہ میں کچھ لوگوں کے تعاون کی ضرورت ہوگی۔ مزید تعاون کے بغیر شاید مدرسہ اس کام کو بحسن وخوبی انجام نہ دے سکے۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader