مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 204
By Maulana Wahiduddin Khan
ایک صاحب نے کہا کہ آخر کیا بات ہے کہ غیرمسلموں میں آپ کی بہت پذیرائی ہو رہی ہے، ہندوؤں اور عیسائیوں کے جلسوں میں خطاب کرنے کے لیے آپ بار بار بلائے جاتے ہیں، دور جدید میں یہ پہلا واقعہ ہے جو کسی مسلمان عالم کے ساتھ پیش آرہا ہے۔ آپ کے سواکسی اور عالم کے ساتھ کبھی ایسا نہیں ہوا۔ میں نے کہا کہ یہ صرف اسلوب کے فرق کا معاملہ ہے، اصل یہ ہے کہ دوسرے عالم اور رہنما اسلام کو دفاعی نقطہ نظر سے پیش کرتے ہیں۔ جب کہ میں اسلام کو دعوتی اعتبار سے پیش کرتا ہوں۔ انہوں نے دوسری قوموں کو اسلام کا دشمن سمجھ لیا۔ اس بنا پر ان کی تقریروں میں مناظرانہ اور حریفانہ رنگ آگیا۔ میرا معاملہ یہ ہے کہ میں کسی کو بھی اسلام کا دشمن نہیں سمجھتا۔ میں سمجھتا ہوں کہ اسلام دین فطرت ہے اس بنا پر اسلام ہر انسان کا اپنا مطلوب دین ہے۔ میری اس سوچ کی بنا پر میری تقرير میں مذمت کے بجائے محبت ہوتی ہے۔ اس میں اظہار فخر نہیں ہوتا۔ اس میں مناظرہ بازی نہیں ہوتی۔ وہ فطرت کو جگاتی ہے اور ان کے سامنے خدا کے دین کا مثبت تعارف پیش کرتی ہے۔ میں ہندو یا عیسائی کے مقابلہ میں مسلمان کا کیس پیش نہیں کرتا۔ بلکہ سب کو خدا کا بندہ مان کر ان کے سامنے خدا کی بات پیش کرتا ہوں۔ اسلوب کا یہی فرق ہے جس نے ان کی نظر میں میری بات کو پسندیدہ بنا دیا ہے۔ ہماچل پردیش کے مختلف حصوں کا سفر کرتے ہوئے میں نے پایا کہ یہاں ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان وہ نفرت اور تعصب نہیں ہے جو دہلی اور یوپی کے لوگوں میں پایا جاتا ہے۔ دونوں خطوں میں اس اعتبار سے واضح فرق ہے۔ اس پر غور کرتے ہوئے میری سمجھ میں آیا کہ اس کی وجہ غالباً یہ ہے کہ دہلی اور یوپی کا علاقہ عرصہ دراز تک سیاسی لوگوں کا مرکز رہا ہے اور آج بھی ہے۔ اس طرح اس علاقہ کے ہندوؤں اور مسلمانوں کے درمیان کشیدگی کا ماحول قائم ہو گیا۔ اس کے برعکس، ہماچل پردیش کا علاقہ کبھی بھی اس قسم کی فرقہ وارانہ سیاست کا مرکز نہیں رہا۔ اس فرق نے دونوں خطوں کے درمیان فرق پیدا کر دیا ہے، جس کو آج ہم دیکھ رہے ہیں۔

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader