Urdu book · علما اور دینی مدارس

مدرسہ قادریہ کا سفر

Urdu book, p. 205

By Maulana Wahiduddin Khan

انسانی سرگرمیوں کو اگر دو قسم میں بانٹا جائے تو یہ کہنا صحیح ہوگا کہ سیاسی سرگرمیاں باہمی نفرت پیدا کرتی ہیں اور تعمیری سرگرمیاں باہمی محبت ۔ مدرسہ میں ایک مسلمان بڑھئی کام کر رہا ہے تھے ان کا نام محمد حنیف ہے۔ اس وقت یہاں مسجد میں ماربل لگانے کا کام بھی ہورہا تھا۔ مذکورہ بڑھئی نے کئی روز ماربل کے مستریوں کو دیکھا۔ انہیں ان کا کام اچھا نہیں لگا۔ اگر چہ خود انہوں نے کبھی ماربل کا کام نہیں کیا تھا۔ اور نہ اس کو کہیں سیکھا تھا۔ تاہم اپنے اندرونی جذبہ کے تحت انہوں نے مدرسہ کے ذمہ داروں سے کہا کہ ماربل لگانے کا کام آپ مجھے دے دیں، میں اس کو کروں گا۔ چنانچہ یہ کام انہیں دے دیا گیا۔ اس کے بعد انہوں نے ماربل لگانے کا کام شروع کیا اور مستریوں سے کہیں زیادہ اچھا لگایا۔ میں نے بعد میں چاروں طرف دیکھا۔ میں سمجھتا تھا کہ یہ کام کسی ماہر کاریگر نے کیا ہے۔ مگر بعد کو معلوم ہوا کہ یہ ایک نئے آدمی نے انجام دیا ہے۔ مسلمان آج کل ہر جگہ کاریگری کے کام میں آگے دکھائی دیتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تعلیم حاصل نہیں کر سکے۔ تعلیمی پسماندگی نے ان کے اندر نیا جوش پیدا کیا۔ وہ سرگرمی کے ساتھ کاریگری کے کام میں لگ گئے جس میں تعلیم کی ضرورت نہ تھی۔ یہ قدرت کا نظام ہے۔ آدمی اگر ایک میدان میں ناکام رہے، تو وہ دوسرے میدان میں اپنی جگہ بنا لیتا ہے۔ 18 نومبر کی سہ پہر کو مے سر والا سے ناہن کے لیے روانگی ہوئی۔ راستہ میں مولانا کبیر الدین صاحب نے ایک بڑے کام کی بات کہی، انہوں نے کہا کہ ”اگر ہمیں دین کا کام کرنا ہے تو ہم کو اسٹیج اور مظاہرہ کا طریقہ چھوڑنا ہوگا“۔ مغرب کی نماز ہم لوگوں نے ناہن میں پڑھی۔ یہاں چار مسجدیں ہیں۔ مسجد کچا تالاب بس اسٹینڈ کے بالکل قریب ہے اور کافی آباد ہے۔ اس مسجد میں نماز مغرب کے بعد جلسہ کا پروگرام رکھا گیا تھا۔ جلسہ سے پہلے کچھ دیر ہم لوگ امام صاحب قاری حسین احمد کے کمرہ میں بیٹھے۔ یہاں صدر

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page