مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 206
By Maulana Wahiduddin Khan
انجمن جناب شیخ نثار احمد ایڈوکیٹ بھی آگئے ۔ وہ میرے مضامین پڑھتے رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ ہماری پالیسی وہی ہے جو آپ بتاتے ہیں۔ یعنی ٹکراؤ سے نہیں بلکہ پیار سے۔ یہ علاقہ ریاست سرمور میں شامل تھا۔ 1947 میں یہاں کے راجہ راجندر پر کاش تھے۔ تمام مسلمان ان کی تعریف کرتے ہیں۔ لوگوں نے بتایا کہ 1947 میں جب ہر طرف فساد پھیل گیا تو راجہ راجندر پرکاش نے مسلمانوں کی حفاظت کے لیے اپنی فوج لگادی۔ انہوں نے اعلان کیا کہ میں نہیں چاہتا کہ کوئی ایک مسلمان بھی یہاں سے چھوڑ کر جائے۔ ڈاکٹر حشمت علی صاحب بھی کسرہ میں آگئے۔ وہ یہاں مسلمانوں کو تعلیم میں آگے بڑھانے کے لیے کافی کام کر رہے ہیں۔ انہوں نے ایک بات یہ بتائی کہ ناہن میں دینی کام سب کا سب مقامی چندہ سے ہوتا رہا ہے۔ یہاں کا آدمی کبھی بھی باہر چندہ مانگنے کے لیے نہیں گیا۔ حاضرین میں سے ایک صاحب نے کہا: ”ناہن کے مسلمانوں میں جو اجتماعیت ہے وہ بہت کم کسی شہر میں دکھائی دے گی“۔ 18 نومبر کی شام کو مغرب اور عشاء کے درمیان تقریر کا پروگرام تھا۔ یہ پروگرام مسجد کے اندر رکھا گیا تھا۔ زیادہ تعداد مسلمانوں کی تھی۔ لیکن شہر کے معروف ہندو بھی قابل لحاظ تعداد میں موجود تھے۔ مہاراجہ سرمور کی بہو انجنا سنگھ بھی شریک تھیں۔ مسٹر آر ایس ورما ( سپرنٹنڈنگ انجینئر ) اور دوسرے کئی اعلیٰ تعلیم یافتہ ہندو آئے۔ سب نے کہا کہ ہم آپ کے آرٹیکل اخباروں میں پڑھتے تھے۔ اور ہم کو آپ کی باتیں بہت اچھی لگتی ہیں۔ ناہن سے رات ہی کو ہم لوگ مسر والا کے مدرسہ میں واپس آگئے۔ یہ مدرسہ بستی سے کچھ باہر واقع ہے۔ 19 نومبر کو میں نے مدرسہ کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی۔ نماز کے فوراً بعد بستی کے ایک صاحب ملے۔ انہوں نے بستی آکر یہاں کی مسجد میں فجر کی نماز پڑھی تھی۔ انہوں نے کہا کہ بستی میں لوگ منتظر ہیں کہ آپ وہاں چل کر انہیں کچھ دین کی باتیں بتائیں۔ فجر کی نماز مدرسہ میں اول وقت غلس (the dim light of early dawn) میں ہوتی ہے۔ اور بستی

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader