Urdu book · علما اور دینی مدارس

مدرسہ قادریہ کا سفر

Urdu book, p. 207

By Maulana Wahiduddin Khan

کی مسجد میں دیر کے بعد اسفار (صبح کا اجالا نمایاں ہونے کے بعد) میں۔ اس طرح ہم لوگوں کے لیے یہ ممکن ہو گیا کہ مدرسہ میں نماز ادا کرنے کے بعد وقت پر بستی کی نماز میں پہنچ سکیں۔ نماز کے بعد مستری یوسف صاحب کے اصرار پر ان کے گھر پر صبح کی چائے پی گئی۔ یہاں بستی کے کچھ لوگ جمع ہو گئے۔ ان سے مختصر گفتگو ہوئی۔ واپسی کے بعد صبح 9 بجے میری قیام گاہ پر مدرسہ کے اساتذہ اور کچھ دوسرے افراد اکٹھا ہوئے۔ ان کے سامنے علم دین کے موضوع پر گفتگو ہوئی۔ اس سلسلہ میں میں نے مختلف علمی واقعات ماضی اور حال کے سنائے ۔ جس میں ہر ایک کے لیے سبق تھا۔ مدرسہ قادریہ اور اطراف کی مسجدوں کی تعمیر میں خاص طور پر جناب حاجی موسیٰ بٹلہ صاحب اور جناب ایف ڈی ریاض الدین وغیرہ کا خصوصی حصہ رہا ہے۔ اس علاقہ کی مسجدیں اور مدرسے ایک زندہ علامت کے طور پر بتا رہے ہیں کہ اہل مال کھلے دل کے ساتھ اہل دین کا تعاون کر رہے ہیں۔ اہل مال اور اہل دین کا یہ اشتراک بلاشبہ ملت کا قیمتی سرمایہ ہے۔ مہمان خانہ کے جس کمرہ میں یہاں میں ٹھہرا تھا، اس کے اندر ایک بڑی الماری تھی جس میں بہت سی کتابیں رکھی ہوئی تھیں۔ انہی میں سے ایک کتاب مصنف ابن ابی شیبہ (م 235ھ) کا مکمل سیٹ تھا جو 1986 میں کراچی سے تصحیح کے بعد شائع کیا گیا ہے۔ اس کے مختلف حصوں کو دیکھا۔ اس میں زیادہ تر احکام و مسائل والی روایات ہیں۔ الجزء العاشر میں فضائل القرآن کے باب میں ایک روایت میں بتایا گیا تھا کہ صحابہ و تابعین کے زمانہ میں یہ کہنا اچھا نہیں سمجھا جاتا تھا کہ میں نے پورا قرآن پڑھ لیا: قَرَأْتُ الْقُرْآنَ كُلَّهُ (حدیث نمبر 30092) میں یہ روایت ہے کہ ایک شخص نے حضرت عبداللہ بن عمر کے ایک شاگرد، حیہ بن سلمہ سے کہا کہ میں نے پورے قرآن کو پڑھ لیا۔ انہوں نے فرمایا کہ تم نے اس میں سے حاصل کیا (قَالَ رَجُلٌ لِحَيْيَةَ بْنِ سَلَمَةَ، وَكَانَ مِنْ أَصْحَابِ عَبْدِ اللَّهِ: قَرَأْتُ الْقُرْآنَ كُلَّهُ. قَالَ: وَمَا أَدْرَكْتَ مِنْهُ؟)۔

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page