مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 208
By Maulana Wahiduddin Khan
دورِ اول میں لوگوں کی توجہ اس پر ہوتی تھی کہ انہوں نے قرآن کے کسی حصہ کو پڑھا تو اس سے کیا حاصل کیا۔ اب ساری توجہ اس پر ہوتی ہے کہ انہوں نے قرآن کو کتنی بار ختم کیا۔ پہلے قرآن کے معنوی پہلو پر زور دیا جاتا تھا، اب اس کے الفاظ ہی کو کافی سمجھ لیا گیا ہے۔ دورِ اول کے مقابلہ میں موجودہ دور میں جو فرق ہے وہ اصل میں یہی ہے۔ 19 نومبر کو مسر والا سے سہارن پور کے لیے روانگی ہوئی۔ مولانا انصار الحق مظاہری یہاں کے ایک لائق استاذ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ 1947 سے پہلے ہمارے اکابر نے یہ فتویٰ دیا تھا کہ ہندوستان دارالحرب ہو چکا ہے۔ اور اس کی وجہ یہ بتائی تھی کہ یہاں اسلامی شعائر کی بے حرمتی ہو رہی ہے۔ مسلمانوں کو مذہبی آزادی حاصل نہیں ہے۔ 1947 کے بعد جو دور آیا اس میں شعائر کی بے حرمتی پہلے سے زیادہ بڑھ گئی اور مذہبی آزادی میں پہلے سے زیادہ رخنے ڈالے جانے لگے۔ مگر اب ہمارے علما اس ملک کے دارالحرب ہونے کا فتویٰ نہیں دے رہے ہیں۔ آخر یہ تضاد کیوں؟ یہ سوال قابلِ غور ہے۔ اگر 1947 سے پہلے کانپور کی مسجد کا صرف غسل خانہ توڑے جانے سے ہندوستان دارالحرب بن سکتا تھا تو آج وہ شدید تر معنوں میں دارالحرب قرار پائے گا۔ کیوں کہ آج پوری مسجد توڑ کر اس کو مٹا دیا گیا ہے۔ اس تضاد کی وجہ یہ ہے کہ 1947 سے پہلے ہندوستان کو دارالحرب قرار دینے کا جو فتویٰ دیا گیا وہ اپنی حقیقت کے اعتبار سے ایک سیاسی فتویٰ تھا، نہ کہ کوئی دینی فتویٰ۔ حقیقت یہ ہے کہ یہ ثنائیت (dichotomy) بجائے خود درست نہیں۔ اس فقہی تقسیم کے مطابق، جو ملک دارالاسلام نہ ہو وہ دارالحرب قرار پاتا ہے۔ حالانکہ ”دار“ کی اور بھی قسمیں ہو سکتی ہیں— دارالدعوۃ اور دارالامن، وغیرہ۔ میرے نزدیک ہندوستان نہ 1947 سے پہلے دارالحرب تھا اور نہ 1947 کے بعد دارالحرب ہے۔ اس قسم کی دوگونہ تقسیم قرآن وحدیث میں موجود نہیں۔ وہ عباسی دور کے بعض

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader