مدرسہ قادریہ کا سفر
Urdu book, p. 209
By Maulana Wahiduddin Khan
فقہاء نے زمانی حالات کی بناء پر بنائی تھی۔ اس تقسیم کو شریعت کی طرح ابدی قرار دینا ہرگز درست نہیں۔ شام کو ہم لوگ رائے پور پہنچے۔ یہاں کچھ دیر مدرسہ فیض ہدایت رحیمی میں ٹھہرے ۔ عصر کی نماز بھی اسی مدرسہ کی مسجد میں پڑھی گئی۔ مدرسہ کے مہمان خانہ میں اساتذہ جمع ہو گئے۔ ان کے سامنے بعض موضوعات پر اظہار خیال کیا گیا۔ ایک صاحب نے کہا کہ مدارس کے لیے آپ کا مشورہ کیا ہے۔ میں نے کہا کہ مدارس خدا کے فضل سے بہت اہم کام انجام دے رہے ہیں۔ وہ ملت کے خیمہ کے لیے کھونٹے کی حیثیت رکھتے ہیں۔ آج کل مدارس کے خلاف جو بدگمانیاں پیدا ہو گئی ہیں۔ ان کو دور کرنے کا حل نہ احتجاج ہے اور نہ حکومت کے ذمہ داروں سے مل کر مطالبات کا میمورنڈم پیش کرنا۔ اس کا حل یہ ہے کہ ہم خود کوشش کر کے لوگوں کی غلط فہمیوں کو دور کریں۔ اس کا سب سے طاقتور ذریعہ یہ ہے کہ مدارس قرآن کی آیت : وَأَمَّا مَا يَنْفَعُ النَّاسَ فَيَمْكُثُ فِي الْأَرْضِ (13:17) کا مصداق بنیں، یعنی، جو چیز انسانوں کو نفع پہنچانے والی ہے، وہ زمین میں ٹھہر جاتی ہے۔ اپنے ماحول میں اپنے آپ کو نفع بخش بنائیں اور اس طرح اپنے لیے ایک نئی زندگی کا استحقاق ثابت کریں۔ ظہر کی نماز کسی قدر تاخیر کے ساتھ بادشاہی باغ کی مسجد میں پڑھی گئی۔ میں نے سوچا کہ سڑک کے کنارے مسجدوں کا ہونا کتنی بڑی نعمت ہے۔ یہاں مسلمان وقفہ وقفہ سے کچھ وقت کے لیے ٹھہرتے ہیں۔ وہ وضو کر کے نماز پڑھتے ہیں۔ سفر کے دوران بار بار وہ ان مسجدوں میں لحظاتی قیام کر کے خدا کی یاد تازہ کرتے ہیں۔ اس طرح وہ اپنے سفر دنیا کو سفر آخرت کا ایک حصہ بنا لیتے ہیں۔ اس کے بعد ہماری گاڑی ایک مقام پر مڑی۔ اب وہ رائے پور جا رہی تھی۔ پانچ کلومیٹر کا یہ راستہ اس طرح طے ہوا کہ سڑک کے کنارے بہتی ہوئی نہر، اور پھر دونوں طرف دور تک سر سبز مناظر ۔ اس کو دیکھ کر میرے سینہ میں شکر کا بے پناہ جذبہ ابھر آیا۔ میں نے سوچا کہ اس دنیا

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader