سائنٹفک مزاج
Urdu book, p. 21
By Maulana Wahiduddin Khan
مطلب یہ ہے کہ آدمی معلوم سائنسی طریقہ (scientific method) کو اپنائے، وہ متھڈولوجی (methodology) کے اعتبار سے سائنسی اصولوں کی پیروی کرے۔ اس کے مقابلے میں سائنٹفک ٹمپر کا مطلب یہ ہے کہ یہی آدمی کی نفسیات بن جائے۔ سائنٹفک ٹمپر ایک بے حد مشکل چیز ہے۔ اکثر بڑے بڑے لوگوں میں بھی سائنٹفک ٹمپر نہیں ہوتا۔ اس کی ایک مثال اسٹیفن ہاکنگ (2018-1942) ہے۔ وہ ایک ماہر نظریاتی سائنسداں کی حیثیت سے معروف ہے۔ لیکن اس نے ایک ایسا بیان دیا جو سائنٹفک ٹمپر سے مطابقت نہیں رکھتا۔ ایک انٹرویو کے دوران اس نے کہا کہ جنت یا زندگی بعد موت کا کوئی وجود نہیں، یہ سب پریوں کی کہانی ہے: There is no heaven or afterlife, that is a fairy story. ایک آدمی جس کے اندر سائنٹفک ٹمپر ہو وہ ایسی بات کہنے کا تحمل نہیں کر سکتا۔ ایک سائنسداں جائز طور پر صرف یہ کہہ سکتا ہے کہ جنت جیسی کوئی چیز اب تک اس کے مشاہدے میں نہیں ہے۔ مگر یہ بات کہنا کہ جنت جیسی کوئی چیز امر واقعے کے طور پر موجود نہیں، خالص علمی اعتبار سے ایسا کہنے کا حق کسی کو نہیں، نہ سائنس داں کو اور نہ غیر سائنسداں کو۔ اسی طرح مشہور سائنس داں البرٹ آئن سٹائن نے یہودی فلسفی ایرک (Eric B. 1877-1965 ,Gutkind) کو ایک خط (3 جنوری 1954) لکھا تھا، جو علمی دنیا میں گاڈ لیٹر (God letter) کے نام سے معروف ہے۔ اس خط میں آئن سٹائن نے لکھا کہ خدا کا لفظ اس کے سوا کچھ اور نہیں کہ وہ صرف انسانی کمزوریوں کی ایک پیداوار ہے: The word God was nothing more than the expression and product of human weaknesses. یہ خود اگر چہ ایک معروف سائنسداں کا قول ہے۔ مگر وہ سائنٹفک ٹمپر کے مطابق نہیں۔ ایک مسئلے کے بارے میں اپنا نقطہ نظر بتاتے ہوئے، یہ ایک ایسا بیان دیتا ہے جو اپنی نوعیت کے اعتبار سے ایک سبجیکٹیو بیان (subjective statement) ہے۔ یہ بات ایک

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader