Urdu book · علما اور دینی مدارس

مدرسہ قادریہ کا سفر

Urdu book, p. 210

By Maulana Wahiduddin Khan

میں مومن کی سب سے بڑی کمائی یہ ہے کہ وہ شکر خداوندی کا رزق پاسکے۔ دنیا کے کسی خطہ ارض میں جب تک مومن کو شکر الہی کا رزق مل رہا ہے وہ محروم نہیں ہے۔ وہ عظیم سرمایہ کا مالک ہے۔ اس نعمت کے ملتے ہوئے دوسری چیزوں سے محرومی پر واویلا کرنا۔ ایک قسم کی ناشکری ہے جو مومن کے لیے جائز نہیں۔ سہارن پور میں ریلوے اسٹیشن کے پاس ایک مسجد ہے۔ یہاں مغرب کی نماز پڑھی گئی۔ نماز سے فارغ ہو کر اٹھا تو میرے ساتھی مسجد میں نظر نہیں آئے۔ میں حیران تھا کہ وہ لوگ کہاں چلے گئے۔ کچھ دیر کے بعد ایک ساتھی آئے۔ ان سے اصل بات معلوم ہوئی۔ سہارن پور سے مجھے شتابدی ایکسپریس کے ذریعہ دہلی کے لیے روانہ ہونا تھا۔ سفر سے واپسی کے بعد نظام الدین کی کالی مسجد میں نماز کے لیے گیا تو یہاں ایک پوری تاریخ یاد آگئی۔ یہ مسجد جس کو کالی مسجد یا کلاں مسجد کہا جاتا ہے، آج ایک وسیع اور شاندار مسجد دکھائی دیتی ہے۔ مگر 1947 میں یہ ایک کھنڈر کی صورت میں تھی جس پر کچھ لوگوں نے قبضہ کر لیا تھا۔ میوات کے حافظ عبد الغفور صاحب نے اس کو دوبارہ آباد کرنے کی خاموش کوشش شروع کر دی ۔ لمبی جد و جہد کے بعد یہ مسجد دوبارہ مسلمانوں کو مل گئی۔ اس کے بعد حافظ عبد الغفور صاحب کے بھانجے مولانا محمد ہارون صاحب کی مسلسل کوشش کا مزید نتیجہ یہ ہوا کہ آج یہ مسجد اس علاقہ کی سب سے زیادہ شاندار مسجد کی صورت اختیار کر چکی ہے۔ حافظ عبد الغفور صاحب 72 سال کی عمر میں دسمبر 1992 میں وفات پاگئے ۔ حافظ عبد الغفور صاحب بظاہر ایک غیر معروف شخص تھے مگر انہوں نے معروف شخصیتوں سے زیادہ بڑا کام کیا۔ ان کی شروع سے یہ کوشش رہی کہ غیر آباد مسجدیں آباد ہوں اور مدارس کا قیام زیادہ سے زیادہ عمل میں آئے۔ انہوں نے اپنی لگن اور جدوجہد سے 22 غیر آباد مسجد میں آباد کرائیں، اور 15 مدرسے قائم کیے۔ دہلی میں جو مسجدیں انہوں نے آباد کرائیں ان میں سے چند یہ ہیں: فیروز شاہی جامع مسجد، بستی نظام الدین۔ جامع مسجد ڈیفنس کالونی، جامع مسجد خیر المنازل

The printed page

‹ Previous page Next page › About this book Open in the reader

Printed page